اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 30 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 30

الذكر المحفوظ 30 میثاق مدینہ کے نسخہ کی طرح اس کے بھی باہمی مختلف نسخے ہوتے۔لیکن موجودہ صورت میں ایسا بالکل بھی ممکن نہیں ہوا۔حفظ کے متوازی متن کی تحریری صورت نے حفظ کی حفاظت کی اور اس میں تبدیلی نہیں ہونے دی اور تحریر کے متوازی حفظ نے تحریر کی حفاظت کی اور اس میں تبدیلی نہیں ہونے دی۔ایک طرف یہ حقیقت ہے اور دوسری طرف ایک حقیقت یہ ہے کہ عربوں کا حافظہ ایک مثالی حافظہ تھا۔وہ لوگ اپنے نسب نامے یا درکھتے اور ہزاروں ہزار شعر یا درکھتے تحریر کا رواج عام نہ ہونے کی وجہ سے حافظہ کی طاقت کس قدر غیر معمولی طور پر بڑھ چکی تھی اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجیے کہ رسول کریم کے ارشادلا تكتبوا عـنـى سوی القرآن(مسند احمد بن حنبل الباقي مسند المكثرين مسند ابی سعید الخذری) تعمیل میں آپ کے اقوال اور احادیث زیادہ تر حافظہ کی بنیاد پر یاد رکھی جاتی تھیں اور ان کے حفظ کا با قاعدہ انتظام نہیں تھا۔صحابہ عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے آپ کے اقوال اور احادیث مختلف مواقع پر گھروں میں، مجالس میں سفر وغیرہ پر ایک دوسرے کو سنتے سناتے اور اس طرح سینہ بسینہ آپ کے فرمودات ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے رہے اور آپ کی وفات کے سو ڈیڑھ سو سال بعد تحقیق کر کے تحریری صورت میں جمع کر لیے گئے۔جبکہ قرآن کریم نا صرف ساتھ ساتھ تحریر میں محفوظ کیا جاتا رہا بلکہ اس کے حفظ کا با قاعدہ اہتمام کیا جاتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود اس کی نگرانی فرماتے تھے۔اب اس واقعہ پر نظر ڈالیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شاہ مصر مقوقس کے نام ایک خط لکھوایا تھا۔خط تو بادشاہ کی خدمت میں بھجوادیا گیا مگر صحابہ نے اس کو بھی اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا اور اس طرح یہ سینہ بسینہ روایات کی صورت میں نسلاً بعد نسل آگے منتقل ہوتا رہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات سے سو، ڈیڑھ سوسال کے بعد جب احادیث اکٹھی کی گئیں تو اس خط کے بارہ میں روایات پر تحقیق کر کے راویوں کے سینوں میں محفوظ اس خط کے الفاظ کتب حدیث میں درج کر لیے گئے۔قریباً ایک سو سال قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا لکھوایا ہوا اصل خط دریافت ہو چکا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں خط ، یعنی دریافت شدہ اور کتب حدیث میں بزبان رواۃ محفوظ خط حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے کے عین مطابق ہیں۔(حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سيرة خاتم النبین صفحہ 822) ایک خط کا سینہ بسینہ آگے منتقل ہونے والی روایات میں ذکر ہونا اور پھر سو دوسوسال کے بعد ان روایات کا تحریری شکل میں آنا اور جب خط کی اصل تحریر دریافت ہوئی تو الفاظ تک میں مطابقت ہونا، یہ ثابت کرتا ہے کہ عربوں کا حافظہ کتنا مثالی اور غیر معمولی تھا اور یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کس درجہ امانت دار تھی وہ قوم کہ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وہ الفاظ جو کہ وحی الہی نہیں تھے اس حفاظت کے ساتھ یادر کھے۔تو سوچیے کہ وہ قوم وحی الہی کو کس حفاظت سے رکھتی ہوگی۔عربوں کے حافظہ کے غیر معمولی ہونے کا تمام محققین بہت واضح