اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 29 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 29

29 عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن سے ایک زبر دست فتنہ جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کی شورش و بغاوت کا تھا۔اس سلسلہ میں سب سے بڑا معرکہ مسیلمہ کذاب سے یمامہ کے مقام پر ہوا۔اس معرکہ میں دونوں لشکروں کا بھاری نقصان ہوا۔شہید ہونے والے مسلمانوں میں سات سوقراء وحفاظ تھے اور بعض کے نزدیک ان کی تعداد اس سے بھی زائد تھی۔(عمدة القارى جلد 20 كتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن صفحه 16) حفظ کی یہ مبارک عادت امت میں آج تک پورے اہتمام کے ساتھ جاری ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کسی مضمون کی حفاظت بھی مکمل طور پر نہیں ہو سکتی جب تک وہ تحریر اور حفظ دونوں ذریعہ سے محفوظ نہ کیا جائے۔انسانی حافظہ بھی غلطی کر جاتا ہے اور کا تب بھی بھول چوک جاتا ہے لیکن یہ دونوں مل کر ایک دوسرے کی غلطی کو نکال دیتے ہیں اور ان دوسامانوں کے جمع ہونے کے بعد غلطی کا امکان باقی نہیں رہ سکتا۔قرآن کریم کو یہ دونوں حفاظتیں حاصل ہیں۔یعنی وہ کتاب بھی ہے۔رسول کریم صلعم کی زندگی سے ہی اس کے الفاظ تحریر کر کے ضبط میں لائے جاتے رہے ہیں اور وہ قرآن بھی ہے۔یعنی نزول کے وقت سے آج تک ہزاروں لوگ اسے حفظ کرتے اور اس کی تلاوت کرتے چلے آئے ہیں۔ایک محقق لکھتا ہے : ( تفسیر کبیر جلد 4 صفحه 5 زیرتفسير سورة الحجر :2) Thus, if the Qur'an had been transmitted only orally for the first century, sizeable variations between texts such as are seen in the hadith and pre-Islamic poetry would be found, and if it had been transmitted only in writing, sizeable variations such as in the different transmissions of the original document of the constitution of Medina would be found۔But neither is the case with the Qur'an۔There must have been a parallel written transmission limiting variation in the oral transmission to the graphic form, side by side with a parallel oral transmission preserving the written transmission from corruption۔(Andrew Rippin (Ed),Approaches Of The History of Interpretation Of The Qur'an, 1988, Clarendon Press, Oxford, p۔44۔) اگر قرآن کریم صرف حفظ کے ذریعے آگے منتقل ہوتا تو اس میں ایسی تبدیلیاں ہوسکتی تھیں جیسی احادیث اور دور جاہلی کی شاعری میں ہیں۔اگر قرآن کریم صرف تحریری طور پر آگے منتقل ہوتا تو پھر