اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 384 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 384

الذكر المحفوظ 384 پس قرآن کریم کی معنوی محافظت کے ضمن میں مناسب ہے کہ ناسخ منسوخ کے مسئلہ پر بھی ایک مختصر نظر ڈالی جائے۔مستشرقین اور مغربی محققین بھی حفاظت قرآن کریم کے پہلو پر حملہ کرنے کے لیے نسخ کے عقیدہ کو سہارا بناتے ہیں۔چنانچہ ابن وراق نے بھی قرآنِ کریم کی عدیم النظیر حفاظت کے پہلو پر اعتراض کرنے کے لیے عقیدہ نسخ کا سہارا لیا ہے۔کہتا ہے: The doctrine of abrogation also makes a mockery of the Muslim dogma that the Koran is a faithful and unalterable reproduction of original scriptures that are preserved in Heaven۔If God's words being superseded or becoming obsolete? Are some words of God to be preferred to other words of God? Apparently yes۔According to Muir, some 200 verses have been canceled by later ones۔Thus we have the strange situation where the entire Koran is recited as the word of God, and yet there are passages that can be considered not "true"; in other words, 3 percent of the Koran is acknowledged as falsehood۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg: 115) کیا نسخ کا عقیدہ بھی اس اسلامی عقیدہ کا تمسخر نہیں اُڑا تا کہ قرآن کریم لوحِ محفوظ کی دیانت داری اور اخلاص سے کی گئی نا قابل تحریف نقل بمطابق اصل ہے۔کیا خدا کے بعض اقوال پُرانے اور فرسودہ ہیں؟ کیا خدا کے بعض احکام بعض دوسرے احکام سے زیادہ اہم ہیں؟ (اس عقیدہ کے مطابق ) بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے۔میور کے مطابق لگ بھگ دوسو آیات بعد میں نازل ہونے والی آیات سے منسوخ ہوئیں ہیں۔اب ہم عجیب مخمصہ میں ہیں کہ ایک طرف تو سارے قرآن کریم کی بطور کلام الہی تلاوت کی جاتی ہے جبکہ اس میں ایسے حصے بھی ہیں جو کہ حق نہیں ہیں۔با الفاظ دیگر قرآن کریم کا ایک تہائی حصہ مسلمہ طور پر باطل ہے۔اس ضمن میں ایک بات تو یہ مد نظر رہی چاہیے کہ نسخ کا عقیدہ اگر درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو بھی قرآن کریم کی لفظی حفاظت کے بارہ میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ یہ حقیقت بہر حال تسلیم شدہ ہے کہ قرآن کریم جس صورت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے بنی نوع کو عطا ہوا بعینہ اسی طرح محفوظ ہے۔چنانچہ میور کی گواہی درج کی جاچکی ہے کہ قرآن کریم بلا تحریف و تبدل ہم تک پہنچا ہے۔ہاں معنوی حفاظت کے پہلو کے لحاظ سے قرآن کریم میں ناسخ و منسوخ کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔این وراق درست کہتا ہے کہ قرآن کریم میں خدا کا بیان فرمودہ ایک ایک حرف حتمی ، درست اور قابل عمل ہے