اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 306
الذكر المحفوظ 306 ہوتی ہیں۔الفاظ کو منتخب کرنے کے بعد بھی مسلمانوں کو ابھی vowels لگانے تھے اور مختلف vowels سے یقیناً مختلف قراء تیں بن جانی تھیں۔اس جگہ بھی حسب معمول اعتراض کا کوئی موقع نہیں ملتا۔اس لیے اعتراض بنانے کے لیے اپنا اکلوتا ہتھیار یعنی دجل استعمال کرتا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ گویا اختلاف قراءت کی وجہ اعراب اور نکتے بنے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔اعراب اور نقاط 40 ہجری کی دہائی میں لگنے شروع ہوئے۔اختلاف قراءت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہی پہلی مرتبہ نظر آیا تھا اور آپ نے ہی اس کا فیصلہ بھی فرما دیا تھا اور اس فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے حضرت عثمان نے 40 ھجری سے قبل ہی امت مسلمہ کو ایک مرکزی قراءت پر جمع کر کے اس اختلاف کو ختم کر دیا تھا۔پس یہ کہنا کہ اختلاف قراءت کی وجہ اعراب اور نقطے تھے اس پنجابی کہاوت کی یاد دلاتا ہے کہ: ماں جمی نہیں ؛ تے پت بنیرے تے یعنی ابھی والدہ پیدا نہیں ہوئی اور اس کی طرف منسوب کر کے ایک بیٹا پیش کیا جا رہا ہے۔اعراب اور نقطے وغیرہ اختلاف قراءت کے حل کے بہت بعد قریباً 40 ھجری کی دہائی میں بننے شروع ہوئے ہیں اور پھر ان کا ارتقاء ہوا ہے۔پہلے اعراب لگائے گئے ہیں اور پھر اس کے بعد حروف کے نقطوں کی باری آئی ہے۔پس یہ کہنا کہ اعراب لگانے سے اختلاف قراءت ہوا ہے ایک واضح دجل ہے۔ہاں اعراب لگانے سے غیر عرب مسلمانوں کے لیے عربی تحریر کا سمجھنا اور اختلاف قراءت کی حقیقت سمجھنا اور فرق کرنا آسان ہو گیا ہے۔نیز یہ ذکر گز را که حضرت عثمان نے جو صحیفہ تیار کروایا اس میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ جہاں تک ممکن ہو لفظ اس طرح تحریر کیا جائے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ قراء تیں سموئی جائیں۔اب علما تفسیری نکتہ نظر سے اخذ معارف اور فہم قرآن کے لیے دیگر قراء توں کو بھی زیر بحث لاتے ہیں لیکن مرکزی متن اور مرکزی قراءت ایک ہی ہے۔دوسرا دجل یہ کر رہا ہے کہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ جس طرح انگریزی زبان میں vowels اگر نہ لگائے جائیں تو لفظ مکمل نہیں ہوتا اسی طرح عربی میں بھی vowels ابھی لگا کر لفظ مکمل کرنا باقی تھا۔حالانکہ درحقیقت عربی زبان میں ایسی کوئی مشکل نہیں ہے۔عربی میں اعراب لفظ کے اندر نہیں لگائے جاتے۔بلکہ علامات کی شکل میں حرف سے باہر لگائے جاتے ہیں اور ایسا زیادہ تر غیر عربی لوگوں کی آسانی کے لیے کیا جاتا ہے۔اہل زبان عربوں کے لیے بغیر اعراب کے عربی پڑھنا چنداں مشکل نہیں ہے۔آجکل بھی عربی زبان کے چھپنے والے رسائل اور کتب میں اعراب نہیں لگائے جاتے۔قرآن کریم میں خاص طور پر اس لیے یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ قرآن کریم ساری دُنیا میں عربی زبان سے واقف یا نا واقف ہر مسلمان نے پڑھنا ہوتا ہے۔پس اعراب کی وجہ سے ساری دُنیا میں غیر عرب بچہ بھی آسانی سے قرآن کریم کی درست اور صحیح تلاوت کرتا ہے۔اسی طرح یہ کہنا کہ حروف پر نقطے نہیں ہوتے تھے اس لیے اختلاف قراءت ہوا ، غلط ہے۔ایک جیسے حروف