اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 285
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 285 اختلاف قراءت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں کثرت سے حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں کی آسانی اور قرآن کریم کی کثرت اشاعت کی غرض سے خدا تعالیٰ کی اجازت سے ایک سے زائد قراء توں پر قرآن کریم کی اشاعت کی تھی۔حضرت عثمان نے اپنے عہد خلافت میں عالم اسلام کو دوبارہ ایک قراءت پر جمع کر دیا۔مستشرقین کی طرف سے بہت شد و مد کے ساتھ ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ حضرت عثمان کے عہد خلافت میں قرآن کریم کے مختلف ورژن رائج تھے اور بہت اختلاف ہو گیا تھا۔پھر حضرت عثمان نے ایک متن تیار کروا کر بطور مرکزی متن شائع کر دیا اور باقی سب جلوا دیے۔مستشرقین کے اس دجل کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قراءت دراصل چیز کیا ہے۔عام طور پر تر تیل اورلحن کے ساتھ تلاوت کرنے کو قراءت سمجھا جاتا ہے۔مگر جو مسئلہ اختلاف قراءت کے عنوان سے زیر بحث ہے اس سے صرف لحن یا لہجہ کا فرق مراد نہیں بلکہ ایک دوسرا فرق بھی مراد ہے جسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حرف کے لفظ سے بیان فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا اُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَوُا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ۔(بخارى كتاب فضائل القرآن باب انزل القرآن على سبعة حرف) یعنی قرآن کریم سات حروف میں نازل ہوا ہے پس جیسے آسانی ہو، پڑھ لیا کرو۔قراءت کے فرق سے یہ دھو کہ نہیں کھانا چاہیے کہ قرآنی آیات مختلف ہیں۔اس حقیقت کو بہتر طور پر صرف عربی دان ہی سمجھ سکتا ہے کیونکہ یہ خصوصیت اپنی کامل شکل میں صرف عربی زبان میں ہی ہے اور کسی دوسری زبان میں نہیں پائی جاتی۔عربی زبان کے الفاظ کے زیر اور ز بر کئی طرح جائز ہوتے ہیں لیکن معنی نہیں بدلتے کسی حرف کے نیچے زیر لگا لیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور اگر اُس پر زبر پڑھیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور معنی ایک ہی رہتے ہیں۔کبھی تو یہ عام قاعدہ کے طور پر فرق ہوتا ہے یعنی علمی زبان میں اس لفظ کو کئی طرح بولنا جائز ہوتا ہے اور بعض موقعوں میں یہ فرق قبائل کے لحاظ سے بھی ہوتا ہے یعنی بعض قبائل یا بعض خاندان ایک لفظ کو زیر ) کے ساتھ پڑھتے ہیں۔بعض لوگوں کے مُنہ پر زبر (-) چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔اسی طرح بعض دفعہ یہ فرق بعض حروف کی ادائیگی میں ہوتا ہے۔ایک علاقہ کے لوگ ایک حرف نہیں بول سکتے اور اس کی جگہ دوسرا حرف بولتے ہیں اور کبھی یہ فرق الفاظ میں بھی ہوتا ہے۔ایک قبیلہ ایک لفظ کو ایک معنی میں استعمال کرتا تھا جبکہ دوسرا قبیلہ اُسی لفظ کا استعمال دوسرے معنی میں کرتا تھا۔گویا ایک قبیلہ ایک لفظ سے کچھ اور مراد لیتا تھا اور دوسرا قبیلہ اُسی لفظ کے کچھ اور معنی کرتا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم قرآن کریم کی معنوی حفاظت اور کثرت اشاعت کی غرض