اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 14
الذكر المحفوظ 14 قرآن کریم میں یہ پیشگوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں کے نرغہ کے نکال کر صحیح سلامت لے جائے گا۔اگر ایک دفعہ سارا قرآن نازل ہوتا تو یہ نہ کہا جاسکتا تھا کہ دیکھو ایسا ہی ہوا۔یہ اسی صورت میں ممکن تھا جبکہ پیشگوئی والا حصہ پہلے نازل ہو چکا ہوتا اور اس کی طرف اشارہ کرنے والا حصہ بعد میں نازل ہوتا۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: کافر کہتے کہ کیوں قرآن ایک مرتبہ ہی نازل نہ ہوا۔ایسا ہی چاہیے تھا تا وقتا فوقتا ہم تیرے دل کو تسلی دیتے رہیں اور تا وہ معارف اور علوم جو وقت سے وابستہ ہیں اپنے وقت پر ہی ظاہر ہوں کیونکہ قبل از وقت کسی بات کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے سو اس مصلحت سے خدا نے قرآن شریف کو تئیس برس تک نازل کیا تا اس مدت تک موعود نشان بھی ظاہر ہو جائیں۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 357) ششم : اگر ایک ہی بار یہ کتاب دے دی جاتی تو کوئی کہ سکتا تھا کہ کسی نے یہ کتاب بنا کر دے دی ہے۔مگر اس طرح کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اگر مکہ میں کوئی بنا کر دیتا تھا تو مدینہ میں کون دیتا تھا؟ پھر سفر و حضر میں قرآنی آیات نازل ہوئیں مجالس میں نازل ہوئیں اور علیحدگی میں بھی نازل ہوئیں۔دن کے اوقات میں بھی نازل ہوئیں اور رات کی تاریکیوں میں بھی نازل ہوئیں۔اس طرح یہ شک نابود ہو گیا کہ کوئی شخص یہ کلام بنا کر دے رہا ہے۔جب ہر موقع اور محل کے مطابق آیات نازل ہور ہیں تھیں تو کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہر موقعہ پر کوئی آپ کو کلام بنا کر دے دیتا ہے۔ہفتم: قرآن کریم کا یہ انداز نزول کتب سابقہ میں درج پیشگوئیوں کے عین مطابق ہے۔ایک طرف عربوں کا مشہور زمانہ حیرت انگیز حافظہ اور دوسری جانب نزول کی رفتار اتنی کم۔اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اب ہم قرآن کی حفاظت کے ان ظاہری ذرائع کو دیکھتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی راہنمائی کے مطابق اختیار کیے۔مثلا کتابت قرآن، حفظ قرآن، تلاوت قرآن تعلیم القرآن، وغیرہ۔ذیل میں ان ذرائع کی کچھ تفصیل بیان کی جاتی ہے تا کہ قاری کو اندازہ ہو سکے کہ کس درجہ جانفشانی اور عشق و محبت اور اخلاص و وفا کے ساتھ قرآن کریم کی حفاظت کا انتظام کیا گیا اور جن لوگوں نے یہ انتظام کیا، انہوں نے قرآن کریم میں رد و بدل نہ کرنے کی ہر قیمت چکائی۔ابتداء نزول سے ہی کتابت وحی قرآن کا اہتمام ابن وراق کو یہ خبر جانے کہاں سے پہنچی ہے کہ قرآن کریم کا کبھی کوئی مخصوص متن نہیں رہا۔اس بات کے قطعی ثبوت ملتے ہیں کہ تحریری طور پر جمع قرآن کا کام ابتداء سے ہی شروع ہو گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم