اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 13
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: 13 وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةٌ وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنَهُ تَرْتِيلاً - (الفرقان: 33 ) ترجمہ: اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ کہیں گے کہ اس پر قرآن یک دفعہ کیوں نہ اُتارا گیا۔اسی طرح ( اُتارا جانا تھا) تا کہ ہم اس کے ذریعہ تیرے دل کو ثبات عطا کریں اور (اسی طرح) ہم نے اسے بہت مستحکم اور سلیس بنایا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کریم کے آہستہ آہستہ نزول کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے دلوں میں راسخ کرنے اور اس کو حرز جان بنانے میں بنیادی کردار ہے۔چنانچہ یہ کئی طرح سے ہوا : اول: اگر ایک ہی دفعہ سارا قرآن کریم نازل ہو جاتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استدلال کرتے رہتے تو آپ کے دل کو ایسی تقویت حاصل نہیں ہو سکتی تھی جیسے کسی امر کے متعلق فوراً کلام الہی کے نزول سے ہوسکتی ہے۔وہ لطف اور اثبات آپ کو اجتہاد اور استدلال سے نہیں ملنا تھا جو عین ضرورت کے وقت خدا کے ہم کلام ہونے سے ملتا تھا۔دوم: جو کتاب ساری دُنیا کے لیے آئی اس کا محفوظ رکھنا اس طرح آسان ہوگیا کہ اسے نزول کے ساتھ ساتھ ہی تحریری طور پر اور حفظ کے ذریعے محفوظ کیا جاتا۔اگر اکٹھا نازل ہوتا تو پھر وہی حفظ کر سکتا جو اپنی ساری زندگی اس کام کے لیے وقف کر دیتا۔مگر اس طرح نزول کا فائدہ یہ ہوا کہ سینکڑوں لوگ ساتھ ساتھ اس کے حفظ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔سوم : قلوب میں اسلامی تعلیم راسخ ہونے میں اس طرز نزول کا اہم کردار تھا۔اگر اکٹھا نازل ہو جاتا تو اس وقت لوگوں پر اس کی تعلیمات کا سیکھنا اور ان پر عمل کرنا گراں ہو سکتا تھا۔مگر آج اس کی ضرورت نہیں کیوں کہ اب اگر کوئی مسلمان ہوتا ہے تو اس کے سامنے بہت سے مسلمانوں کا طرز عمل ہوتا ہے اور اسے ان تعلیمات پر عمل کرنے میں دشواری پیش نہیں آتی۔چهارم: رَتَّلْنَهُ تَرْتِيلاً کے الفاظ میں یہ بیان کر دیا کہ اس کی ترتیب بھی دو طرح سے ہوئی تھی۔ایک ابتدائی حالات کے مطابق اور ایک دائمی ترتیب جو نزول کے ساتھ ساتھ قائم کی جارہی تھی۔اگر ایک ہی دفعہ قرآن کریم نازل ہوتا تو اس کی ترتیب یہی ہوتی جو آج ہے۔مگر یہ ترتیب اُس دور کے لیے مفید نہ تھی جیسا کہ اُس دور کی ترتیب آج کے لیے غیر مفید ہے۔پنجم : ایک ہی دفعہ قرآن کریم نازل ہونے میں کئی امور جو ابتدائی زمانہ میں صحابہ کے ازدیاد ایمان کا موجب ہوئے ، بیان نہ ہو سکتے تھے۔مثلاً قرآن کریم کی ایک آیت دوسری آیت کی طرف اشارہ نہ کر سکتی۔مثلاً