اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 196
الذكر المحفوظ 196 سات برابر حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔چنانچہ روایت ہے: عن حديقة الثقفي قال فسألنا أصحاب رسول الله صلى الله ﷺ قلنا كيف تحزبون القرآن قالو نحزبه ثلاث سور و خمس سور و سبع سور و تسع سور و احدى عشرة و ثلاث عشرة وحزب المفصل من ق حتى نختم (سنن ابی داؤد کتاب الصلاة باب تحزيب القرآن 1158) حضرت حذیفہ التفی فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کے مسلمان ایک دفعہ وفد کی صورت میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے۔۔ہم نے صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے احزاب کے بارہ میں سوال کیا تو انہوں نے بتلایا کہ ہم نے تین اور پانچ اور سات اور نو اور گیارہ اور تیرہ اور پھر سورۃ ق سے آخر قرآن تک سورتوں کے حزب بنائے ہوئے ہیں۔اسی مضمون کی حدیث الفاظ کے ادنیٰ سے فرق کے ساتھ مسند احمد : مسند المد ینین اجمعین حدیث اوس بن ابی اوس اثقفی نمبر 15578 پر درج۔اس تقسیم کی تفصیل حسب ذیل ہے۔1- الفاتحہ تا النساء ( پہلی چارسورتیں ) 2۔المائدہ تا التوبه (اگلی پانچ سورتیں ) (انگلی سات سورتیں) 3۔یونس تا النحل 4۔-4 بنی اسرائیل تا الفرقان ( اگلی نوسورتیں) 5- الشعراء تائيسين (انگلی گیارہ سورتیں) 6- الصافات تا الحجرات ( اگلی تیرہ سورتیں) 7۔سورۃ ق تا الناس (اگلی پینسٹھ سورتیں) حضرت علامہ سیوطی فرماتے ہیں: فهذا يدل على ان ترتيب السور على ما هو في المصحف الآن كان علی عہد رسول الله ل ل و ل ﷺ قال ويحتمل ان الذي كان مرتبا۔اتقان في علوم القرآن: نوع ثامن عشر جمعه و ترتیبه، فصل سوم صفحه 63) تی تقسیم اس بات کی دلیل ہے کہ سورتوں کی ترتیب آج بھی وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں رائج تھی اور اُس دور میں بھی قرآن کریم کی سورتوں کی یہی ایک ترتیب ہوا کرتی تھی علامہ الزرکشی کی بھی یہی رائے ہے۔البرهان فی علوم القرآن جز واول صفحہ 311) عرض الانوار صفحہ 41 42 43 از قاضی عبدالصمد سیوہاروی مطبوعہ حمید برقی پریس دہلی 1359 طبع اوّل)