اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 193 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 193

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 193 مختلف انداز دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان کو (6 = 3 × 2 ) چھ طریقوں سے مرتب کیا جاسکتا ہے۔اگر یہی معاملہ چھ سورتوں کی ترتیب میں پیش آئے تو ان کی 720 ترتیبیں لگائی جاسکتی ہیں۔اب قاری سوچ لے کہ 114 سورتوں کی ترتیب میں امکانات کو ہی دیکھا جائے تو ترتیب کے لاتعداد امکانات تک بات جا پہنچتی ہے۔پس اگر سورتوں کی کوئی ترتیب نہ ہوتی تو حضرت ابوبکر کے جمع قرآن کے وقت جھگڑا کھڑا ہوجاتا اور لبی لمبی بحثیں اُٹھتیں۔کیونکہ ناممکن ہے کہ مسلمان قوم جو کہ قرآن کریم کے عشق میں جان کی بازی لگانے کی ان گنت مثالیں قائم کر چکی تھی اور اس معاملہ میں بہت حساس تھی، بلاوجہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ ترتیب کو بدلنے پر خاموش رہتی اور آرام سے ایک غیر معروف ترتیب پر متفق ہو جاتی۔پس بہت خوفناک جھگڑا کھڑا ہوجاتا کیونکہ مختلف مجوزہ ترتیبیں سامنے آتیں۔مختلف ترتیبوں کے حامی مختلف گروہ بن جاتے۔مثلا ترتیب نزولی یا سورتوں کے حجم کے لحاظ سے ترتیب۔اس صورت میں بھی دوتر تی ہیں ممکن تھیں یعنی بڑی پہلے اور چھوٹی بعد میں یا اس کے الٹ یعنی چھوٹی پہلے اور بڑی بعد میں۔پھر کئی کہنے والے یہ بھی کہتے کہ جب کوئی ترتیب ہے ہی نہیں تو اس جھگڑے سے بہتر ہے کہ اسی ترتیب میں سورتوں کو لکھ لو جس ترتیب میں وہ نازل ہوئی ہیں۔کیوں بلاوجہ ترتیب نزولی کو بدلتے ہو اور چند صحابہ کی رائے باقی صحابہ اور امت پر ٹھونستے ہو؟ اور پھر ترتیب بدلنے والے صحابہ دلائل دیتے اور پھر فیصلہ کیا جاتا کہ کون سی ترتیب بہتر ہے اور آیا بہتر ترتیب رکھی جائے یا وہی ترتیب رہنے دی جائے جو کہ نزول کے مطابق ہے۔پھر ان دلائل کا روایات میں ذکر ہوتا اور بعد کے علما یہ بحث نہ کرتے کہ ترتیب تو قیفی تھی یا صحابہ کی لگائی ہوئی تھی۔بلکہ یہ بحثیں اُٹھتیں کہ دونوں گروہوں میں سے زیادہ درست بات کون سا گر وہ کر رہا تھا۔اگر نئی ترتیبیں لگانے والے گروہ حق پر تھے تو ان میں سے بہترین ترتیب کس کی تھی؟ بعد میں بھی تو علما نے صرف اسی بات پر لبی لمبی بحثیں کی ہیں کہ ترتیب تو قیفی ہے یا صحابہ نے لگائی ہے تو پھر جب ترتیب لگائی جارہی تھی تو کیا اس وقت اختلافی بحثیں نہیں اُٹھنا چاہئیں تھیں؟ مگر ایسے کسی جھگڑے کا کھڑا نہ ہونا اور ایک باڈیڑھ سال کے قلیل عرصہ میں امت کا اتفاق رائے سے ایک عظیم الشان کارنامہ سرانجام دے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے سے ایک ترتیب موجود تھی جس پر ساری امت متفق تھی۔اگر یہ کام صحابہ کی صوابدید پر چھوڑا جاتا تو اتنا عظیم اختلاف پیدا ہوتا کہ تاریخ میں اس کا ذکر ضرور آتا۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگرانی میں لکھے ہوئے قرآن کریم کے حضرت ابوبکر کے زمانہ میں دوبارہ لکھنے پر اس قدر احتیاط برتی گئی تو پھر کیسے ممکن تھا کہ ترتیب لگاتے وقت صحابہ سے رائے نہ لی جاتی ؟ لازماً اختلاف پیدا ہونا چاہیے تھا اور کئی ایک گروہ بنے چاہیئیں تھے۔پھر ان گروہوں میں بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ ہونا چاہیے تھا مگر اتنی خاموشی سے بنا کوئی دوسری بات کیسے سارے صحابہ کا اس ترتیب پر متفق ہو جانا بتا تا ہے کہ ترتیب کے ضمن میں کوئی دوسری رائے تھی ہی نہیں اور ایک ہی مروج اور متفقہ ترتیب تھی اور وہی آج بھی مروج ہے کیونکہ آج بھی وہی ترتیب ہے جو روایات سے ثابت ہوتی ہے اور ایسا ذکر کہیں نہیں ملتا