اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 192 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 192

الذكر المحفوظ 192 کر کے ترتیب سور کا ذکر کر دیا۔یہ تمام روایات ترتیب سور کا ذکر تو کرتی ہیں مگر چونکہ یہ ترتیب رائج اور مستعمل تھی اور اس کے علاوہ اور کوئی ترتیب نہیں تھی اس لیے تمام سورتوں کی ترتیب کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ جس طرح آیات کے بارہ میں اصولی طور پر ایک علم آگے منتقل کر دیا اسی طرح سورتوں کے بارہ میں اصولی طور پر بتادیا کہ ان کی ترتیب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الہی رہنمائی کے مطابق لگائی۔اگر ایک سے زیادہ ترتیبیں رائج ہوتیں تو ضرور ان کا الگ الگ ذکر کیا جاتا یا پھر ضر ور سورتوں کا کسی دوسری ترتیب سے بھی ذکر ملتا نہ کہ ہمیشہ اسی ترتیب سے کہ جو آج بھی رائج ہے۔تمام روایات کے مجموعی مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی نئی ترتیب نہیں سکھائی گئی بلکہ کسی ایک مخصوص ترتیب کا ذکر کیا گیا ہے۔جیسا کہ اگر کوئی کہے کہ فلاں شخص کار سے لا ہور گیا تو اس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کہنے والے اور سننے والے کو علم ہے کہ کار کیا چیز ہے اور لاہور کیا ہے۔اس سے یہ مراد نہیں ہوگا کہ سنانے والے کو سکھایا جا رہا ہے کہ کار کوئی چیز ہے اور لاہور کوئی جگہ ہے۔صرف ایک خبر دی جارہی ہے۔اسی طرح ان روایات میں بھی صرف خبر دی جارہی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ایک ترتیب ہو اور کہنے والے اور سننے والے کو اس ترتیب کا علم ہو۔پس اگر تمام روایات میں کچھ سورتوں کا ایک ہی ترتیب سے ذکر ملتا ہے تو اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کوئی ترتیب رائج ضرور تھی اور جب وہی ترتیب آج بھی رائج ہے تو کیا یہ واضح ثبوت نہیں کہ آج بھی قرآن کریم کی ترتیب وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھی اور بدلی نہیں گئی؟ پھر جب چند سورتوں کی ترتیب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو اس آیت وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى۔إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم :4,5) کی موجودگی میں قرآن کریم کی ترتیب توقیفی ترتیب ہی مانی جائے گی۔جیسا کہ حضرت امام رازی کی رائے گزرچکی ہے۔یہ بات بھی زیر نظر رہے کہ اگر سورتوں کی ایک ترتیب نہ ہوتی تو پھر کوئی شخص قرآن کریم کی تلاوت آسانی سے نہ کر پاتا۔اس بات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے آپ 1 سے لے کر 114 تک کبھی بنا کسی ترتیب کے گنتی گنیں۔مثلاً 59،83،67، 81،39،01، 73 وغیرہ۔اس طرح اول تو آپ گن ہی نہیں سکیں گے اور اگر بزعم خود کسی طرح گن کر پورا کر بھی لیں تو سننے والا اگر غور سے سُن رہا ہو تو بتائے گا کہ آپ نے فلاں فلاں عدد چھوڑ دیا ہے بلکہ اسی طرح اگر آپ بنا کسی ترتیب کے لکھنا شروع کر دیں اور جب اپنے خیال کے مطابق مکمل لکھ لیں تو ان ہندسوں پر دوبارہ نظر ڈالیں۔آپ دیکھیں گے کہ کتنے ہی عدد گنتی سے رہ گئے ہیں۔پس 1 سے لے کر 114 تک بلا ترتیب گنتی گننا ممکن نہیں کجا یہ کہ قرآن کی 114 سورتوں کی زبانی تلاوت کی جائے۔اگر سورتوں میں کوئی ترتیب نہ ہوتی تو پھر ضرور تھا کہ ترتیب لگاتے وقت اختلاف رائے ہوتا۔کوئی کسی سورت کو آگے رکھتا اور کوئی کسی کو۔مثلاً کچھ سورتوں کی ترتیب لگاتے وقت سب سے پہلے یہ مد نظر رکھا جاتا کہ ان کی ترتیب کتنے طریق پر لگائی جاسکتی ہے۔فرض کیجیے کہ تین سورتوں کی ترتیب کا مسئلہ ہے۔اگر ان کی ترتیب کے