اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 186 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 186

الذكر المحفوظ 186 اس کے بعد ہر اگلے رمضان میں جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور اس وقت تک جتنی وحی نازل ہو چکی ہوتی تھی اسے دہراتے تھے۔اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ شروع سے ہی قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ترتیب کا ایک دور جاری تھا اور وہ ترتیب ساتھ ساتھ مکمل ہوتی جا رہی تھی۔“ 66 ( خطبه جمعه فرموده 7 را پریل 1989 ) رسول کریم نے کی لگوائی ہوئی ترتیب بدلی نہیں گئی یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ مانا کہ ترتیب اللہ تعالیٰ کی ہی لگائی ہوئی تھی یا جو یہ نہیں مانتا کہ قرآن کریم کلام الہی ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ مانا کہ ترتیب آنحضور نے لگائی تھی مگر کیا دلیل ہے کہ وہ ترتیب اب تک قائم ہے؟ اس سوال کے جواب میں سب سے پہلے تو ہم سورتوں کی ترتیب پر قرآن کریم کی اندرونی گواہی کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں جس کا ایک نمونہ گزشتہ سطور میں درج کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں اس حقیقت کے اثبات میں روایات اور تاریخ سے بھی بہت سے دلائل ملتے ہیں۔مثلاً حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے: ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالْكَهْفِ وَمَرْيَمَ وَطَهِ وَالْأَنْبِيَاءِ إِنَّهُنَّ منْ الْعَتَاقِ الْأَوَل وَهُنَّ مِنْ تَلَادِي (بخاری کتاب فضائل القرآن باب تاليف القرآن سورتہائے بنی اسرائیل کہف، مریم ، طہ، انبیاء اعتماق اول میں سے ہیں اور میرا خزانہ ہیں۔موجودہ ترتیب میں یہ سورتیں اسی ترتیب سے ہیں۔پھر ذکر ملتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضور نے ایک ہی تہجد میں قرآن شریف کی پہلی پانچ سورتوں یعنی سورت بقرہ ال عمران، نساء، مائدہ یا انعام کی جو مجموعی طور پر قرآن کریم کے پنچم حصہ کے برابر بنتی ہیں، اکٹھی بالترتیب قراءت فرمائی تھی (ابو داؤد کتاب الصلوة باب مايقول الرجل في ركوعه وسجوده ) ترمذی میں ہے کہ ایک دفعہ آپ نے صلوۃ الکسوف پڑھاتے ہوئے بالترتیب بقرہ ، ال عمران، نساء اور مائدہ کے کچھ حصے تلاوت فرمائے ( ابواب الجمعة باب ماجاء في صلاة الكسوف ) آج بھی یہ سورتیں اسی ترتیب سے ہیں۔اسی طرح صحابہ کثرت سے سبع طوال کی اصطلاح استعمال کرتے تھے جس سے قرآن کریم کی سورۃ الفاتحہ کے بعد پہلی سات سورتیں مراد ہوتی تھیں جو آج بھی اسی ترتیب سے ہیں۔اتقان في علوم القرآن نوع ثامن عشر جمعه و ترتیبه، فصل سوم صفحه 63) بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی روایت ہے: عن كفيه ثم عائشة ان النبي ﷺ كان اذا اوى لى فراشه كل ليلة جمع نفث فيهما فقرأ فيهما قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وقُلْ أَعُوذُ