اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 159
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 159 ر کے۔کوئی دھمکی ، رشوت یا لالچ آپ کو خاموش نہ کر سکا۔”میرے ایک ہاتھ پر سورج اور ایک ہاتھ پر چاند بھی رکھ دو تو بھی میں اپنے مقصد سے نہ ہٹوں گا یہ تھا آپ کا استقلال اور اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی پر ایمان کہ خدا کی توحید کی طرف بلایا جائے۔جو کہ اسلام کی بنیاد بنا۔سٹینلی لین پول رقم طراز ہیں: He was the messenger of the one God, and never to his life's end did he forget who he was or the message which was the marrow of his being۔He brought his tidings to his people with a grand dignity sprung from the consciousness of his high office together with a most sweet humility۔۔۔(Stanley Lane-Poole: The Speeches and Table-Talk of the Prophet Mohammad, Introduction, pp۔27-30۔) صل الله وہ واحد و لاشریک خدا کے رسول تھے (ﷺ) ، اور تادمِ واپسیں کبھی بھی وہ اپنی اس شناخت اور اپنے پیغام کی اہمیت کو نہیں بھولے۔انہوں نے ایسے اعلیٰ طریق اور عظمتِ کردار کے ساتھ خوشخبریاں اور بشارتیں اپنی قوم کو دیں جس کے ساتھ ایک میٹھا انکسار بھی شامل تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خدا پر ایمان کو دیکھتے ہوئے MAJOR A۔LEONARD لکھتے ہیں: If ever any man on this earth has found God; if ever any man has devoted his life for the sake of God with a pure and holy zeal then, without doubt, and most certainly that man was the Holy Prophet of Arabia۔(Islam, its Moral and Spiritual Values, p۔9; 1909, London) اگر روئے زمین پر بسنے والے کسی شخص نے خدا کو پایا ہے؛ اگر کسی شخص نے کبھی حقیقی طور خالص اور پاکیزہ جذبہ کے ساتھ خدا کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہے، تو بلا شبہ اور تمام تر وثوق کے ساتھ وہ ایک شخص مقدس نئی عربی ( ) W۔Montgummy Watt اپنے تمام تر تعصب کے باوجود لکھتا ہے: Had it not been for his gifts as seer, statesman, and administrator and, behind these his trust in God and firm belief that God had sent him a notable chapter in the history of mankind would have remained unwritten۔(Mohammad At Madina Page 336) (ترجمہ از اسوہ انسان کامل ) غیب پر اطلاع پانے ، مدبر اور منتظم ہونے کے علاوہ اگر آپ کا اس بات پر محکم ایمان نہ ہوتا کہ خدا نے آپ کو بھیجا ہے تو انسانی تاریخ کا ایک قابل ذکر باب