انوارالعلوم (جلد 9) — Page 622
۶۲۲ مسلمانوں کی خاطر اس وقت جب کہ مسلمان بالکل مردہ کی طرح ہو گئے تھے ، معاہدہ لوزین میں بہت کچھ قربانیاں کر کے ان کی مدد کی۔پس اس وقت جب کہ خطرہ معمولی ہے مسلمانوں کو گورنمنٹ پر اعتبار کرنا چاہئے۔سر جیفرے بانٹ مورنسی کی تقریر کے ان دونوں حصوں پر ایک حصہ رعایا میں اس قدر جوش پیدا ہو گیا ہے کہ وہ پہلے مظاہرات سے کم نہیں ہے۔لیکن میرے نزدیک اس قضیئہ نامرضیہ میں دونوں فریق کی غلطی ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سر جیفرے مانٹ مورنسی نے جن الفاظ میں چوہدری افضل حق صاحب کا ذکر کیا ہے وہ الفاظ نامناسب تھے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کے الفاظ پر جن الفاظ میں گرفت کی گئی ہے، وہ بھی نامناسب ہیں۔ہمیں اپنی تحریر و تقریر میں اخلاق کے قوانین کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اخلاق کے قوانین حکومت اور رعایا دونوں پر یکساں طور پر حاوی ہیں۔گورنمنٹ اپنی تمام شان کے باوجود ان قوانین سے بالا نہیں۔اور رعایا اپنی تمام بے بسی کے باوجود ان قوانین سے بری نہیں۔سرجیفرے مانٹ مورنسی کا عہدہ گورنر کے بعد ممتاز ترین عہدوں میں سے ہے اور غالباً وہ کچھ عرصہ کے بعد گورنری کے عہدہ پر مقرر ہونے والے ہیں۔پس انہیں اپنی شان کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسی طنزآمیز گفتگو میں حصہ نہیں لینا چاہئے تھا۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ دلوں میں بل پڑے ہوئے بہت مشکل سے نکلتے ہیں۔چوہدری افضل حق صاحب کے متعلق اگر انہیں کوئی ایسی رپورٹ آئی بھی تھی جو ان کے اخلاق پر اعتراض کا موجب ہوتی تھی تو انہیں بر سر اجلاس ان پر اس طرح دف گیری مناسب نہ تھی۔کیونکہ اس قسم کی باتوں کے نتیجے میں اصلاح نہیں بلکہ فساد پیدا ہوتا ہے۔مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں انہیں اصل معاملہ میں غلطی لگی ہے اور اس کے متعلق میں دوسرے مضمون میں روشنی ڈالوں گا۔میرے نزدیک جن الفاظ میں انہوں نے معاہدہ لوزین کا ذکر کیا ہے وہ بھی ایک مدبّر کی شان کے خلاف ہیں۔انہوں نے مسلمانوں کی حالت کو ایسا ذلیل کر کے دکھایا ہے اور پھر ان کی نجات اور اس طرح کلی طور پر گورنمنٹ برطانیہ کے احسان پر مبنی قرار دیا ہے کہ ایک مسلمان اس کو پڑھ کر ذلت محسوس کرتا ہے اور بجائے شکریہ کے افسردگی اور اپنی انتہائی بے بسی کا احساس اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے مگر میں اس مضمون میں بھی ان سے اختلاف رکھتا ہوں۔اور بعد میں اس کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کروں گا۔