انوارالعلوم (جلد 9) — Page 16
۱۶ ڈر آتا ہے کہ کہیں یہ عذاب کا نشان نہ ہو اور قوم پر عذاب نہ آجاۓ۔۔۹؎ اب ان تین ماہ کے اندر ہمارے خاندان سے چار آدمی فوت ہو گئے ہیں۔یہ موتیں کبھی رحمت کا موجب ہوتی ہیں اور کبھی عذاب کا موجب ہوتی ہیں۔مجھے کیا علم ہے کہ کس بات کا باعث ہے۔پس میری تو یہ حالت ہے کہ میں ہوا کا رخ دیکھتا ہوں اور تم آندھیوں میں اڑتے پھرتے ہو اور تمہیں احساس تک نہیں۔تمہاری مثال اس شخص کی ہے جو کہ ہاتھی کے پاؤں کے نیچے آجائے، یا کسی مکان کے نیچے آ جاوے ،بدن چُور چُور ہو ،مرنے کے قریب ہو ،مگر اس پر بھی یہ کہے کہ کون گر گیا ہے یا کون دب گیا ہے۔پس تمہیں تو گِر کر بھی حِسّ نہیں ہوتی اور میرے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے اور میں خدا سے ڈرنے پر فخر کرتا ہوں۔میں کسی انسان سے نہیں ڈرتا۔میں خد اکے افعال کو اس کے اشاروں سے تاڑتا ہوں اور تم اس کے افعال سے بھی کچھ نہیں سمجھتے۔دیکھو جب حضرت صاحب کو اپنی وفات کے متعلق خدا کی طرف سے علم دیا گیا تو آپ کرب کی وجہ سے گھنٹوں ٹہلا کرتے۔اور اسی وقت بچوں تک کو استخارہ اور دعاؤں کے لئے کہتے۔مجھے بار بابلا کر کہتے کہ محمود! متواتر الہام وفات کے ہو رہے ہیں۔یہی حال رسول کریمﷺ اور آپ کے صحابہ کا تھا جب سورة اذاجاء نصر الله والفتح نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر کی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں لوگوں نے کہا کہ بڈھے کو کیا ہو گیا یہ تو انعام ہوا ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا تم نہیں جانتے یہ تو آنحضرت ﷺ کے جدا ہونے کی خبر ہے ۱۰؎ انعام نہیں۔پس جب تک تم چھوٹے چھوٹے اشاروں سے نہ سمجھو انعام الہٰی کو سمجھ نہیں سکتے۔اسی طرح نبی کریم ؐ کا حال تھا۔پس کیا حضرت صاحب تمہاری شکلوں کو دیکھنے کے لئے دنیا میں اور زندہ رہنا چاہتے تھے اور گھبراتے تھے کہ یہ سورتیں میری نظروں سے غائب ہو جائیں گی۔کیا تم انہیں خدا سے زیادہ محبوب تھے۔تم بھی کبھی خدا کے قرب اور تقویٰ میں ترقی نہیں کر سکتے جب تک تم چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے اندر خشیت پیدا نہ کرو اور پھر اس کے ساتھ ہمت نہ ہو۔میں اپنے گھر میں عزیزوں کو بھی کئی دنوں سے یہی کہہ رہا ہوں کہ وہ سب ان دنوں میں استخارے اور دعائیں کریں تاخد اتعالی ان پر ظاہر فرمادے کہ یہ واقعات کیا نتیج پیدا کرنے والے ہیں اور ساتھ ہی وہ ہمت کو نہ چھوڑ بیٹھیں اور مایوس نہ ہوں خوف اور رجا کے اندر اپنے ایمان رکھیں۔پس یہ وجہ تھی اس درد و غم کی۔اور میرے اندر تو ان دنوں تمہارے لئے دعاؤں کے