انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 15

۱۵ زنده کون ہے تم مردہ اس کو سمجھتے ہو جو دنیا میں کھاتا پیتا چلتا پھرتانہ ہو اور زندہ اس کو سمجھتے ہو جو چلتا پھرتا ہو اور خوب کھاتا پیتا ہو حالانکہ مردہ وہ ہے جو کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہو لیکن اس کے دل میں خدا کی یاد نہیں۔ایک انسان جس کی روحانیت اور اخلاق بگڑے ہوئے ہیں جس کے اندر ایمان نہیں وہ مردہ ہے اور جس کے اندر یہ باتیں ہوں وہ ہمیشہ زندہ ہے۔تمہارا چلنا پھرنا اور کھانا پینا یہ کوئی زندگی نہیں۔زندگی تو احساس کو کہتے ہیں کیا انجن کو کوئی زندہ کہہ سکتا ہے، مشینوں کو زندہ کہتا ہے ، حالانکہ وہ بھی تو چلتے ہیں۔انہیں اس لئے زندہ نہیں کہتے کہ ان میں احساس نہیں۔زندگی احساس کا نام ہے اگر تمہارے اندر احساس ہے تو تم اگر کروڑوں من مٹی کے ڈھیروں کے نیچے بھی ہو گے تو بھی زندہ ہی رہو گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اندر بھی وہ احساس ہی کام کرتا تھا اور اس احساس کی وجہ سے آپ ہمیشہ زندہ ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سینہ سے اس طرح رونے کی آواز آتی تھی جس طرح ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز آتی ہے۔۸؎ اس زمانہ میں تو جذبات کا اظہار کر لیا کرتے تھے لیکن آج اس قسم کا زمانہ ہے کہ ہمیں اپنے جذبات کو دبانا پڑتا ہے۔نماز میں رقّت آتی ہے تواسے دباجاتے ہیں۔پس میرے دل پر صدمہ ہے کہ تم میں اچھی تربیت کے آثار نظر نہیں آتے جب تک مجھے یہ تسلی نہ مل جائے کہ بوجھ اٹھانے والے اور سنبھالنے والے لوگ موجو د ہیں۔بعض لوگوں کو میرے متعلق خوابیں آئی ہیں۔ممکن ہے کہ وہ میری بیوی کے متعلق ہوں کیونکہ بیوی بھی مرد کا ایک حصہ ہوتی ہے۔پس میرے غم اور میرے رونے کی وجہ تمہاری حالت ہے۔تمہاری حالت کو دیکھ کر مجھ پر جنون کی حالت طاری ہوتی ہے کہ تمہارے اندر ابھی وہ قوت و طاقت نہیں کہ جس کے ساتھ تم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکو۔تم میں وہ وجود نظر نہیں آتے کہ دوسروں کے لئے اپنے دل میں درد پیدا کر سکیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی تمہارے اندر رقّت پیدا کرے‘ قربانی کا جوش پیدا کرے ،باہم محبت پیدا کرے۔پسں اپنے اندر اخلاص، محبت، دین کے لئے قربانی اور خدا سے محبت اور اس کی خشیت پیدا کرو۔روسری وجہ میرے غم کی یہ ہے کہ میں اب آئندہ کے متعلق بھی خداتعالی سے ڈرتا ہوں۔رسول کریم ﷺبجلی چمکنے پر بہت گھبرائے پھرتے تو ایک شخص نے پوچھایا رسول اللہ بجلی چمکنے پر آپ کیوں گھبراتے ہیں۔اس نے سمجھا کہ بچے ہی بجلی سے ڈرا کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ مجھے