انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 437

۴۳۷ فاتحہ جامع اور پُر مغز دعاہے۔چوتھا سوال یہ ہے کہ دُعامیں توجہ نہیں ہوتی۔دعائیں توجہ کس طرح پیدا کی جائے۔اس کا یہی جواب ہے کہ جس کام کو کرنا چاہتے ہو اس کے کرنے کا یہی طریق ہے کہ اسے کرنا شروع کر دو۔کچھ مدت بعد اس کے کرنے کے لئے خود بخود شوق پیدا ہو جائے گا۔جو شخص دعا کرنی شروع کر دے گا اس کے اندر دعانہ کرنے کی نسبت آہستہ آہستہ ضرور توجہ پیدا ہو جائے گی اور پھر کسی وقت وہ خاص حالت بھی اس پر طاری ہو جائے گی جو دُعا کے وقت پیدا ہونی چاہئے ہاں بعض دفعہ دل کے زنگ خوردہ ہونے کی وجہ سے بھی دعا میں توجہ نہیں پیدا ہوتی۔ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ دعا سے پہلے استغفار کرے کہ اے خدا! چو تم مجھے معلوم ہیں وہ بھی اور جو نہیں معلوم وہ بھی معاف کر دے اور اس رسیّ سے مجھے علیحدہ نہ کر جو تیرے اور تیرے بندوں کے درمیان ہے۔کبھی صحت کی کمزوری کی وجہ سے بھی توجہ نہیں پیدا ہوتی۔اس کے لئے صحت کی درستی کا لحاظ رکھنا چاہئے۔میں پھر دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ دعاؤں پر خاص زور دو اور خشوع کے ساتھ باجماعت نمازیں ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اس کے دین کی خدمت کر کے راضی کرو۔آپ لوگوں کا اصل کام دین کا پھیلانا ہے۔بچوں کی طرح وقت ضائع مت کرو۔باہمی جھگڑوں اور فسادوں کو ترک کر دو اور موت کو یاد رکھو کہ جو ہر انسان کے لئے ضروری ہے۔بڑے بڑے طبیب اور ڈاکٹر موت سے نہیں بچ سکتے تو اور کون بچ سکتا ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ موت کے آنے سے پہلے پہلے خدا تعالی سے صلح کر لو۔بست ہیں جو نیک ہونے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن کیا کوئی کام صرف خواہش سے ہی ہوا کرتا ہے۔لیٹے رہنے سے تو کامیابیاں نہیں ملا کر تیں بلکہ بڑی جدوجہد کے بعد جا کر کامیابیاں حاصل ہوا کرتی ہیں۔تو کیا نیکی ہی ایسی چیز ہے جو صرف خواہش سے حاصل ہونی چاہئے۔لوگ ایک سست اور کاہل کا واقعہ مثال کے طور پر بیان کیا کرتے ہیں کہ وہ ایک دورسے گزرنے والے سپاہی کو کہنے لگا کہ دیکھو لوگ کتنے سست اور کاہل ہیں کہ میری چھاتی کے بیر بھی اٹھا کر میرے منہ میں نہیں ڈالتے۔اس پر سپاہی نے اس کو ملامت کرنی شروع کی۔ساتھ والا آدمی بول پڑاہاں صاحب یہ ایساسست اور کاہل ہے کہ آج ہی کا واقعہ ہے کہ تمام رات کتا میرا منہ چاٹتا رہا اور اس نے اسے ہٹایا تک نہیں۔اس مثال کے بیان کرنے کی غرض یہ ہے کہ صرف کسی کام کی خواہش سے و ہ کام نہیں ہوا کرتا کہ اس کے لئے ہمت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ممکن ہیں کہ ایک شخص نیک بننے کے لئے صحیح اور پوری کوشش کرے خدا تعالی اسے ضائع ہونے