انوارالعلوم (جلد 9) — Page 436
۴۳۶ توجہ کا اثر جاندار چیزوں پر ہوتا ہے بے جان پر نہیں ہوتا۔لیکن دعا میں تو ایسارنگ پیدا ہوتا ہے کہ جس کا اثر دنیا سے جا کر پڑتا ہے۔دُعا خالی انسان پر بھی اثر نہیں کرتی بلکہ وہ طبیعات میں بھی تبدیلیاں پیدا کر دیتی ہے۔انسان یہ توجہ کر سکتا ہے کہ فلاں شخص میرا دوست ہو جائے لیکن یہ توجہ نہیں کر سکتا کہ کھیت سرسبز ہو جائے یا بارش ہو جائے۔تیسرا جواب یہ ہے کہ کہاں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ صرف دُعاہی ایک ذریعہ ہے جس سے کام ہوتے ہیں بغیر اس کے کوئی کام نہیں ہو تا۔اور بھی تو اس کے قوانین ہیں۔بغیر دُعا کے جو کام ہو جاتے ہیں ان کی ایسی ہی مثال ہے ہے کسی کو کہیں سے گری ہوئی چیز مل جائے تو دوسرا ہمیشہ کے لئے یہی قانون سمجھ لے کہ اس کا کام بھی بیٹھے بٹھائے ہو جائے گا۔یہ اتفاقی باتیں ہوتی ہیں۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تم اپنے مصائب کو دور کرنے یا ضروریات کے پورا کرنے کے لئے دُعا کرو تو اس سے یہ تو ہمارا مطلب نہیں ہوتا کہ خدا تعالی دُعا کے بغیر اور کسی طرح بھی رحم نہیں کرتا۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالی نے اپنے رحم کے لئے دو قسم کے قانون رکھے ہوئے ہیں ایک قانون دُعاہے اور ایک عام قانون قدرت ہے۔پھر اصل سوال تو یہ ہے کہ وہ کام جو دُعا سے ہوا ہے آیا وہ بغیر دُعاکے ہو سکتا ہے۔اس کا جواب یہی ہے کہ وہ کام دعا کے بغیر واقعی نہیں ہو سکتا۔پھر توکل کا یہ مفہوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ہی دعا کو سن لے گا بلکہ یہ مفہوم ہے کہ خدا ایسا کر سکتا ہے۔میں اس کے رحم پر اُمید رکھتا ہوں کہ وہ میری دعا کو سن لے گا۔پس دعا کی یہ اہمیت ایسی ہے کہ اس کے بغیر دعا، دعا ہی نہیں ہوتی۔اسی وجہ سے برہمولوگ بھی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ قبولیت کے معتقد نہیں۔اور میرے نزدیک بھی اگر ہماری ضروریات ہمیں مجبور نہ کریں تو دنیاکے متعلق نامنظور ہونے والی دعا منظور ہونے والی دعاسے بڑھ کر ہمارے لئے نتیجہ خیز ہے کیونکہ ایک تو وہ عبادت میں شمار ہو گی جو ہماری زندگی کا اصل مقصد ہے اور دوسرے اس کے عوض میں آخرت میں درجہ ملے گا اور ہمیں زیادہ حسنات ملیں گی۔ہمیں عقلاً بھی یہ دیکھنا ہے کہ خدا تعالی کوئی بچہ نہیں کہ وہ ہماری دعاسے بہل جاتا ہے اور ہماری ہر بات منظور کر لینے پر تیار ہو جاتا ہے۔یہ غلط خیال ہے جس میں عام مسلمان گرفتار ہیں۔اگر خدا تعالی ایبانی ہے تو وہ ہمارے ماتحت ہوا نہ کہ بادشاہ۔ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض دعاؤں میں اثر بھی ہوتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ کوئی خاص منتر ہیں یا خاص الفظ ہیں بلکہ وہ دعائیں اس لئے اپنا اثر دکھاتی ہیں کہ اس میں دُعاکاوہ مغز ہوتا ہے جس سے انسان پر وہ حالت طاری ہو جاتی ہے جو دعا میں ہونی چاہئے۔جیسا کہ سورة