انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 425

۴۲۵ کہایا رسول اللہ! ہم میں سے ایک نوجوان نے ایساکہا ہے۔ہم نے خود اسے بہت ڈانٹا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اے انصارا! بے شک تم کہہ سکتے ہو۔تُو بے وطن تھا ہم نے تجھے اپنے پاس جگہ دی۔تُو بےکس تھا ہم نے تیرے دائیں اور بائیں اپنی جانیں دیں اور خون کی ندیاں بہا کر تیریحفاظت کی۔انہوں نے کہایا رسول اللہ! ہم ہرگز ایسا نہیں کہتے۔رسول اللہ نے فرلیا۔ہاں یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ خدا نے خود نصرت دی اور مکہ پر فتح دی مگرفتح مکہ کے بعد لوگ تو اپنے گھروں میں اونٹ لے گئے۔اور تم خدا کے رسول کو اپنے گھر لے آئے۔اے انصار !جو کچھ ہو گیا سو ہو گیا اب دنیا میں رسول کی خلافت تمہیں نہیں ملے گی۔۳؎ ہاں آخرت میں تمہیں معاوضہ دیا جائے گا۔چنانچہ آج تک کوئی انصاری خلیفہ نہیں ہوا۔اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض وقت ایک بات منہ سے نکل جاتی ہے۔جس کو انسان معمولی سمجھتا ہے لیکن اس کا نتیجہ بہت دور تک پہنچتا ہے۔اسی طرح یہاں جب ہمارے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ خلیفہ قائم کرتا ہے وہ اگر أموال تلف کرتا ہے یا تلف کرنے دیتا ہے تو وہ خود خدا کے حضور جوابدہ ہے تم اس پر اعتراض نہیں کر سکتے۔لیکن اگر بہترین نتائج پیدا کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے تو پرھ معترض شخص خطرہ میں ہے۔تقویٰ اور ادب سیکھو آپ لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔جس کے یہ معنے ہیں کہ تم نے اقرار کیا ہے کہ تم ہر چیز کو میرے حکم پر قربان کردو گے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس اقرار کا پورے طور پر خیال نہیں رکھا جاتا۔اقرار تو یہ تھا کہ جو کچھ میں کہوں وہ تم کروگے لیکن عمل یہ ہے کہ چند پیسوں پر ابتلاء آجاتا ہے۔یہ تمام وسوسے تقویٰ کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے میں تقویٰ کے حصول کے لئے اور اس میں ترقی کے لئے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں۔خواہ آپ میں سے بعض مجھ سے عمر میں بڑے ہوں لیکن ایک بات آپ میں سے کسی میں نہیں۔وہ یہ کہ میں خدا کا قائم کردہ خلیفہ ہوں۔میری تمام زندگی میں لوگ میری بیعت کریں گے۔میں کسی کی خدا کے قانون کے مطابق بیعت میں کر سکتا اور یہ عہده میری موجودگی میں تم میں سے کسی کو نہیں مل سکتا۔نبوت کے بعد سب سے بڑا عہدہ یہ ہے۔ایک شخص نے مجھے کہا کہ ہم کوشش کرتے ہیں تاگورنمنٹ آپ کو کوئی خطاب ہے۔میں نے کہایہ خطاب ایک معمولی بات ہے۔میں شہنشاہ عالم کے عہدہ کو بھی خلافت کے مقابلہ میں ادنی ٰ سمجھتا ہوں۔پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے معاملات میں ایسارنگ اختیار کریں جس میں تقوی ٰ اور ادب ہو۔اور میں کبھی یہ بھی نہیں پسند کر سکتا کہ و ہ ہمارے دوست جن کو اعتراض پیدا ہوتے ہیں