انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 385

۳۸۵ ہے کہ حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں تمام اہل بیت کے بیش با وظائف مقرر کر چھوٹے تھے اور حضرت علی کو حسنین کے وظائف ملا کر کوئی پندرہ بیس ہزار سالانہ مل جاتا تھا۔اب ایسے شخص کی نسبت جس کی آمد پندرہ بیس ہزار روپے سالانہ ہو۔یہ کہنا کہ وہ کسی کے باغ میں پانی بھر کے روٹی کمایا کرتا تھا کس قدر خلاف عقل ہے۔صاف ظاہر ہے کہ کسی شخص نے جسے علم تاریخ سے کوئی لگاؤ نہ تھا آنحضرت ﷺکے زمانہ کے بعض حالات سن کر جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کسب حلال کے لئے مزدوری کر لیا کرتے تھے اس حدیث میں یہ بات بھی درج کروی ہے اور یہ خیال نہیں کیا کہ حضرت عمر کے زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اور تھی اور رسول کریم ﷺکے زمانہ میں اور۔جب یہ ثابت ہوگیا کہ یہ روایت جھوٹی ہے تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوگیا کہ یہ کسی ایسے ہی شخص نے بنائی ہے ہے اس حدیث سے فائدہ پہنچتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اس کا فائدہ سنیوں کو نہیں پہنچتا ہے بلکہ اس حدیث میں حضرت عمر پر اعتراض کیاگیا ہے اس لئے سنّی جان بوجہ کرایسی حدیث ہرگز نہیں بنا سکتا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس حدیث سے کسی قوم کو فائدہ پہنچتاہے؟ سو ظاہر ہے کہ اس حدیث سے شیعوں کو کئی طرح فائدہ پہنچتا ہے۔اول اس میں حضرت عمر پر ہنسی اڑائی گئی ہے کہ آپ ایک ٹوکرا کھجوروں کا کھا گئے۔اور ایک ٹھلیاپانی کاپی گئے۔روم حضرت علی کی مظلومیت بتائی گئی ہے کہ جب کہ تمام مسلمانوں کے گھر دولت سے کررہے تھے اور ادنی ٰ سے ادنی ٰ صحابی کا بھی چار ہزار درہم سالانہ مقرر تھا آپ کو کوئی نہیں پوچھتا تھا اور آپ لوگوں کے کھیتوں پر پانی بھر بھر کر گزارہ کیا کرتے تھے۔تیسرے یہ بتایا گیا ہے کہ جب کہ حضرت عمر ٹوکرے بھر بھر کر کھجوریں کھاتے اور غیبت میں مشغول رہے حضرت علی مزدوری کرتے اور تلاوت قرآن میں مشغول رہتے۔چوتھی بتایا گیا ہے کہ حضرت عباس بھی حضرت علی کے دعوۓ خلافت کے مؤید تھے۔اب ہر اک شخص تعصب سے خالی ہو اسے تسلیم کرے گا کہ ان سب باتوں کا فائدہ شیعہ صاحبان کو ہی پہنچتا ہے اور انہی کے عقائد اور دعوؤں کی اس میں تصدیق ہوتی ہے۔پس جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ صث روایتاً اور درایتاً جھوٹی ثابت ہوتی ہے تو اس امر کے ثابت ہو جانے پر کہ اس حدیث کے مضمون کا فائده شیعہ صاحبان کو ہی پہنچتا ہے کس عقل مند کو اس بات کے قلیم کرنے میں شبہ ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کا بنانے والا کوئی دھوکا خورده شیعہ تھا جس نے مذہب کی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے سچ کی تائید کے لئے ہر ایک تدبیر کا اختیار کرنا جائز ہے کے شرمناک مسئلہ پر عمل کیا ہے۔پس مصنّف