انوارالعلوم (جلد 9) — Page 384
۳۸۴ نے اپنے پیچھے حضرت علی کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا۔۱۰۷؎ اب پراک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر حضرت علی پر حضرت عمر کو ذرا بھی شبہ ہوتا جیسا کہ اوپر کی روایت کے راوی نے ثابت کرنا چاہا ہے تو پھر وہ اپنی غیبت کے دنوں میں ان کو دارالخلافہ مدینہ کا گورنر کیوں مقرر کرتے؟ کیا ایسے شخص کو جس پر بدظنی ہوتی ہے کوئی عقلمند صدر مقام کا با اختیار حاکم بناسکتا ہے؟ وہ ضرور خوف کرتا ہے کہ ایسانہ ہو میرے جانے کے بعد ملک میں بغاوت کر کے ہی میں حکومت پر قابض نہ ہو جائے پس اگر في الواقع حضرت عمر کو حضرت علی پر کوئی شبہ ہوتاتو کسی صورت میں بھی آپ ان کو اپنی غیبت کے ایام میں مدینہ کا گورزنہ مقرر کرتے۔اگر کوئی شیعہ صاحب یہ کہیں کہ اس سفرمیں تو حضرت عمر چار پانچ دن کے بعد ہی واپس آگئے تھے اور لشکر کی کمان حضرت سعد بن ابی وقاص کو سپرد کر دی تھی تو انہیں یاد رکھنا ہے کہ اس کے بعد جب بیت المقدس کا محاصرہ مسلمانوں نے کیا ہے اور وہاں کے لوگوں نے اس وقت تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے جب تک کہ خود حضرت عمر وہاں تشریف نہ لائیں تو اس وقت بھی حضرت عمر حضرت علی کو ہی اپنے بعد مدینہ کا گورنر مقرر کر گئے تھے ۱۰۸؎ حالانکہ آپ کو کئی ماہ کا سفر پیش تھا جس میں دشمن کچھ کا کچھ کر سکتا ہے۔پس اگر یہ درست ہے کہ حضرت عمر کو حضرت علی پر شک تھا یا ان کے حضرت علی سے تعلقات اچھے نہ تھے تو کب ممکن تھا کہ وہ انہیں مدینہ جیسے اہم مقام کا جو تمام فوجی طاقت کی کنجی تھی والی مقرر کر جاتے۔اگر فی الواقع ان کے دل میں کوئی شک ہوتا تو وہ ضرور انہیں اپنے ساتھ لے جاتے تاکہ وہ ان کے پیچھے کوئی فتنہ نہ کھڑا کر دیں۔اب ایک طرف تو حضرت عمر کا فعل ہے کہ آپ دو دفعہ حضرت علی کو اپنے بعد مدینہ کا گورنر مقرر کرتے ہیں اور ان پر اس انتہائی درجہ کے اعتماد کا ثبوت دیتے ہیں پھر ایک بادشاہ اپنی رعایا کے متعلق رکھ سکتا ہے دوسری طرف مذکورہ بالا روایت ہے کہ حضرت عمر کو حضرت علی پر شک رہتا تھا کہ شاید خلافت کے حصول کا خیال اب تک ان کے دل میں باقی ہے ان دونوں چیزوں میں ہم کسے تر جیح دیں؟ حضرت عمرکی فعلی شهادت کو یا ایک راوی کی روایت کو جس کی روایات فتنہ پردازی میں خاص شہرت رکھتی ہیں۔پس مندرجہ بالا واقعات سے درایتاً و روایتاً دونوں طرح روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت علی کو حضرت عمر سے کچھ پرخاش نہ تھی اور نہ حضرت عمر کو ان پر کسی قسم کی بدظنی تھی اور اوپر کی روایت محض جھوٹ اور افتراء ہے۔دوسرا ثبوت اس روایت کے جھوٹے ہونے کا خود اس کی اپنی عبارت ہے اس میں لکھاہے کہ حضرت علی حضرت عمر کے زمانہ میں اُجرت پر پانی بھرنے جایا کرتے تھے حالانکہ ایک بچہ بھی جانتا