انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 320

۳۲۰ حق الیقین الله عليه وسلم تبسمة اخری۔۵۵؎ میں نے کہا یا رسول اللہ دیکھئے تو سہی میں حفصہ کےپاس گیا اور میں نے اس سے کہا کہ مجھے کوئی بات دھوکا نہ دے کیونکہ تیری ہمسائی تجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ خوش رکھنے والی اور زیادہ پیاری ہے جس سے ان کی مراد حضرت عائشہ تھیں۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اپنے خاص طرز میں مسکرائے۔مصنّف ہفوات اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم عوام کی طرح مبتلائے نفس امارہ تھے۔اس عقل و دانش پر مجھے تعجب آتا ہے۔اگر اس کا نام نفس امارہ ہے کہ کسی شخص سے جس سے خدا تعالی نے رشتہ محبت پیدا کیا ہے محبت کی جائے تو پھر وہ سب روایات جن میں حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ذکر آتا ہے وہ سب ہی نفس امارہ کی غلامی پر دلالت کرتی ہیں۔نعوذبالله من ذلک۔اور اگر کسی شخص سے دوسروں کی نسبت زیادہ محبت کرنانفس کی غلامی ہے تو لیوسف و أخؤہ أحب إلى أبينا منا ۵۶؎ کی آیت کے ماتحت حضرت یعقوب نعوذ بالله مث ڈاک۔نفس امارہ کے غلام ٹھہرے۔افسوس کہ انسان تعصب میں اندھا ہو کر بالکل غور نہیں کر سکتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔مجھے اس اعتراض پر اور بھی زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ محبت کے مضمون پر میں پہلے تفصیلاً لکھ آیا ہوں۔ہاں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس حدیث کو نقل کر کے مصنّف ہفوات نے جو چند فقرات بزعم خود اس کے مضمون کو رد ّکرنے کے لئے لکھے ہیں ان سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان صاحب کا عندیہ اصل میں کیا ہے اور اس کتاب کی تصنیف کی حقیقی غرض کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں۔اس روایت کو ابن عباس سے کتاب المظالم میں بھی بیان کیا گیا ہے۔لیکن اس حدیث میں حضرت عائشہ و حفصہ رضي الله عنهما کے راز فاش کرنے پر عتاب فرمانے کا بھی ذکر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اوپر کی عشق بازی کی احادیث لغو و بہتان ہیں۔دوم ابن ماجہ جلد سوم باب اسم الله الاعظم صفحہ ۲۲۵ میں حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ آنحضرت ؐنے اسم اعظم کی تعریف کی تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس کے سکھانے کی فرمائش دو بار کی لیکن آپ نے انکار فرمایا۔۵۷؎ سوم مولوی حسن الزمان صاحب حیدر آبادی کی کتاب قول مستحسن کے صفحہ ۴۰۲ میں عوام بن حوشب کی روایت ہے کہ جناب عائشہ نے حضرت فاطمہ اور حسن و حسین کے ساتھ چادر تطہیر گھسنے کی درخواست کی تو آنحضرت نے فرمایا ہٹ جا۔