انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 319

۳۱۹ حق الیقین دیا ہوا ہے) اس آیت میں بھی ایک نبی کی نسبت غضب کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر باوجود اس کے وہ کارِ نبوت سے معطّل نہیں ہوا بلکہ نبی ہے اور نبیوں والا کام کر رہا ہے۔لوگوں سے ناراض ہے مگر اللہ کی مدد کا کامل بھروسہ رکھتا ہے۔دنیا کی تنگی کو دیکھ کر بھی یقین رکھتا ہے کہ خدا مجھے نہیں چھوڑے گا اور اس کی امداد کےحصول کے لئے اس کا درازہ کھٹکھٹاتا ہے اور اس کے لئے الہٰی رحمت کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔یہی غضب کا لفظ مومنوں کی نسبت بھی استعمال ہوا ہے اور بصورتِ مدح استعمال ہوا ہے۔چنانچہ سورۃ شوریٰ میں فرمایا ہے۔وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ۔جب ان کو کسی پر غضب آتا ہے تو اپنے غضب کے نتیجہ میں لوگوں کو سزا نہیں دیتے بلکہ باوجود غضب کے ان کے رحم کا پہلو غالب رہتا ہے اور وہ دوسروں کے قصوروں کو معاف کر دیتے ہیں۔اس جگہ دیکھو مومنون کی تعریف میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ وہ غضب کے وقت سزا سے ہاتھ کھینچے رکھتے ہیں۔اگر غضب کے معنے کارِ رسالت سے معطّل ہونے کے ہوتے تو یہ مؤمن کارِ مؤمنیت سے کیوں معطّل نہ ہو جاتے۔اس جگہ سے تو معلوم ہو رہا ہے کہ غضب کے باوجود ایک مؤمن کا تعلقِ ایمان بھی قائم رہتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰٰ کی صفات کی جلوہ گری اپنے اندر پاتا ہے اور اس کے رحم کو اپنے اندر منعکس کر کے وہ لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہے۔تو پھر کیا نبیوں کےدل کا ظرف ہی اس قدر تنگ ہے کہ اس میں غضب کے آتے ہی باقی سب حواس وہاں سے غائب ہو جاتے ہیں اور ان کو پھر دنیا و ما فیہا بلکہ خدا ور عقبیٰ کی بھی کچھ فکر نہیں رہتی اور وہ کار نبوت سے معطّل ہو جاتے ہیں۔اس عقل و دانش پر تعجب ہے اور اس علم پر ائمہ پر اعتراض کرنے کی جرأت موجبِ حیرت ہے۔اور اس ستم ظریفی پر عقل دنگ ہے کہ آپ بایں علم وفہم لکھتے ہیں کہ ان ہفوات کو عقل انسانی ہرگز قبول نہیں کرتی۔تیسری روایت مصنف ہفوات نے اس امر کی سند میں کہ ائمہ حدیث کےنزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے عشق تھا بخاری کتاب النکاح سے نقل کی ہے۔یہ روایت درحقیقت اسی واقع کے متعلق ہے جو اوپر بیان ہو چکا ہے اس لئے واقع کی طرف اشارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔اس میں سےیہ الفاظ نقل کرے مصنّف ہفوات نے اعتراض کیا ہے۔ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ لَوْ رَأَيْتَنِيْ وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْضَأُ مِنْکِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِیِّ اللّٰهِ صَلَّى