انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 311

۳۱۱ حق الیقین اس ٹکڑہ حدیث کو نقل کر کے مصنّف ہفوات یہ اعتراض کرتے ہیں۔اول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان کہ جس بی بی کا دل خدا سے پھر گیا ہو اس پر آپ فریفتہ ہوں دوم ج و بیوی خدا سے منحرف ہو وہ ان کی زوجیت میں رہ جائے۔ایسا نہیں ہو سکتا۔سوم رسول الله پر ازواج کی یہ زیادتیاں ہوں کہ آپ کئی کئی دن غم و غصہ میں مبتلاء ہیں یعنی کار ِ رسالت سے معطّل رہیں۔ان ہفوات کو عقل انسانی ہرگز قبول نہیں کرتی۔چونکہ عشق کے ہیڈ نگ کے پیچھے یہ حدیث لکھی گئی ہے۔اور چونکہ اعتراضات میں عشق کا ذکر نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ہفوات کے نزدیک عشق کے اعتراض کے علاوہ مزکورہ بالا حدیث پر یہ اعتراض پڑتے ہیں۔اس حدیث سے عشق کا مفہوم نکالنا تو مصنّف ہفوات کی عقل میں ہی آسکتا ہے کیونکہ اس میں نہ عشق کا کوئی ذکر ہے نہ کوئی واقع اس میں ایسا لکھا ہے جس میں یہ اشارہ پایا جاۓ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے عشق تھا۔ہاں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ کی نسبت زیادہ محبت تھی۔لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے عشق کا نتیجہ نکالا جائے یا جس پر کسی قسم کا اعتراض ہو سکے۔حضرت عائشہ کی نیکی۔ان کی رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے فدائیت اور ان کے والد کی خدمات و قربانیاں ایسی نہ تھیں کہ ان کی وقعت کو دوسری بیویوں کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں بڑھانہ دیتیں۔پس اس کی وجہ سے حضرت عائشہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ محبت کرنا قابل اعتراض امر نہیں بلکہ اس قدر دانہ طرز عمل پر روشنی ڈالتا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ایک ممتاز نمونہ پیش کرتی ہے۔اور اس اعتراض سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصنّف صاحب ہفوات کی نظر میں محبت کا کوئی نہایت ہی غلط مفہوم بیٹھاہوا ہے اور وہ اپنی جہالت کا غصہ ائمہ حدیث پر نکالنا چاہتے ہیں۔دوسرا اعتراض بھی کہ جس بی بی کا دل خدا تعالی سے پھر گیا ہو اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح فریفتہ ہو سکتے تھے۔ایسا ہی غلط ہے جیسا کہ پہلا۔کیونکہ قرآن کریم میں تو اس کی بجائے یہ بیان ہے کہ ان کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف مائل تھا۔اور وہ اس کی رضا پر چلنے کے لئے بالکل تیار تھیں مصنف ہفوات خودہی آیت کے ایک غلط معنے کر کے ائمہ حدیث پر اعتراض کرنے گئیں تو اس میں ائمہ حدیث کا کیا قصور ہے؟