انوارالعلوم (جلد 9) — Page 179
۱۷۹ اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔بعض کے نزدیک انسان میں خوشی حاصل کرنے کی زبردست خواہش ہے۔یہ جب عقل سے ملتی ہے تو اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔میرے نزدیک اخلاق کے منبع کو مسلمانوں نے قرآن کریم کی روشنی میں بھی اچھی طرح نہیں سمجھا۔میں نے قرآن کریم پر غور کرکے یہ سمجھا ہے کہ اخلاق کا منبع بہت گہرا ہے اور دور تک چلاجاتا ہے۔اگر صرف انسان میں افعال پائے جاتے جن کو اخلاق کہا جاتا ہے تو جو تعریف پہلوں نے کی ہے وہ صحیح ہوتی۔مگر اس قسم کے افعال نچلی چیزوں میں بھی نظر آتے ہیں۔مثلاً وہ کہتے ہیں عقل، شہوت اور غصہ سے مل کر اخلاق بنتے ہیں۔اور محبت بھی ایک خلق ہے جو حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں عقل اور شہوت یا عقل اور غصہ کے ملنے سے تمام اخلاق بنتے ہیں۔مگر حیوانوں میں عقل نہیں ہوتی۔لیکن باوجود اس کے محبت جسے اخلاق میں شمار کیا جاتا ہے پائی جاتی ہے۔اس لئے معلوم ہوا عقل، شہوت اور غصہ اخلاق کا منبع نہیں۔ورنہ حیوانوں میں کوئی خلق نہ پایا جاتا۔مَیں نے اِس مضمون پر غور کیا ہے اور خُدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا جدید مضمون میری سمجھ میں آیا ہے کہ جس نے اخلاق کے مسئلہ کی کایا پلٹ دی ہے۔دراصل اخلاق کی جڑھ چند قوتیں ہیں جو نہ صرف انسانوں میں بلکہ حیوانات میں بلکہ نباتات میں بلکہ جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں۔اور نہ صرف جمادات میں ہی پائی جاتی ہیں بلکہ ان ذرّات میں بھی پائی جاتی ہیں جن سے جمادات بنتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو انسان سے اُتر کر حیوان میں بھی انسان کے مشابہ اعمال پائے جاتے ہیں۔انسان میں غصہ ہے، حیوان میں بھی غصہ ہوتا ہے۔انسان محبت کرتا ہے، حیوان بھی محبت کرتاہے۔اب ہم اس سے اور نیچے چلتے ہیں یعنی نباتات کو لیتے ہیں۔ان میں بھی ہمیں ایسے افعال ملتے ہیں جو حیوانات اور انسانوں میں پائے جاتے ہیں۔ہاں یہ فرق بے شک ہے کہ نباتات میں وہ افعال بہت ادنیٰ درجہ کے نظر آتے ہیں۔مثلاً جس طرح انسان میں لینے اور دینے کی خواہش ہے اسی طرح نباتات میں بھی ہوتی ہے۔اور اب نئی تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ قریباً تمام نباتات میں نر و مادہ ہیں (گو قرآن کریم میں یہ مضمون پہلے سے بیان ہو چکا ہے) اور جب نر مادہ سے ملے تب پھل بنتا ہے۔کھجور کے متعلق یہ بات ہزاروں سال سے معلوم ہو چکی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ نباتات میں شہوت موجود ہے۔پھر ان میں غصہ بھی پایا جاتا ہے۔ڈاکٹر بوسؔ نے آلات کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا ہے۔موٹی مثال چھوئی موئی کی بوٹی دیکھ لو انگلی لگاؤ تو سُکڑ جائیگی۔اگر اسکے پھل