انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 100

۱۰۰ گیا کہ مجھے سخت بھوک لگی ہے کہ کھانے کو دو۔میں نے کہا میرے پاس تو کچھ نہیں باہر جاکر کھا آؤ مگر برہمن کو نہ کھانا۔جب وہ باہر آیا تو اس نے ایک بڑی برات دیکھی۔ان میں ایک برہمن تھا۔جسے چونچ سے پکڑ کر اس نے درخت پر بٹھادیا اور منہ کھول کر سب برات کو نگل گیا۔پھر اسے پیاس لگی تو ایک ندی پر گیا اور اتنا پانی پیا کہ ندی خشک کردی۔چنانچہ اب تک ایک ندی کے متعلق کہتے | ہیں کہ نیل کنٹھ نے خشک کی تھی۔اس کے بعد وہ ماں کے پاس آیا اور کہنے لگا اب مجھے ذرا تسکین ہوئی ورنہ میں تو بھوک کے مارے مرا جاتا تھا۔اب مسلمان جو تے بناتے ہیں ہندوؤں کی طرح پرانے مشّاق نہیں۔قصوں کے ذریعہ ہندوؤں کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔میں پوچھتا ہوں کیا اس قسم کے معجزات سے وہ لوگوں کو اسلام کے حلقہ میں لا سکتے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اس قسم کے چھوٹے معجزات کی تردید اور ان کا استیصال کرنے آئے تھے۔اگر کوئی اس قسم کے معجزات آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ اسلام پر نہایت ناپاک دھبہ لگاتا ہے۔خدا تعالی ایسے نادان دوستوں سے اسلام کو محفوظ رکھے۔جو اس کو دوستی کے رنگ میں بدنام کرتے ہیں۔کیونکہ اس قسم کے قصے سن کر بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کی عزت اور عظمت پیدا ہو وہ اسلام پر ہنستے ہیں۔کیا مخالفین مقابلہ میں آئیں گے ہاں اگر حقائق اور معارف سے وہ حقیقی معارف مراد ہیں جن سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے اور جن میں انسان کے اخلاق اعمال کی درستی اور اس کے تعلق باللہ کے اعلی ٰسے اعلی ٰذرائع بتائے گئے ہیں تو ان کے لکھنے میں ان مولویوں کو میں اپنے مقابلہ پر بلاتا ہوں۔اگر وہ آئے تو دیکھیں گئے کہ حضرت مرزا صاحب کے ایک ادنی ٰ غلام کے مقابلہ میں ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ان کی قلمیں ٹوٹ جائیں گی۔ان کے دماغوں پر پردے پڑ جائیں گے اور وہ کچھ نہیں لکھ سکیں گے۔اگر ان میں ہمت و جرأت ہے تو مقابلہ پر آئیں۔(اخبار الفضل ،۱۶،۱۴ جولائی ۱۹۲۵ء) ا السبع المعلقات القصيدة الرابعة مفہ ۵۲ مطبوعہ دہلی \" \" وما رمیت اذ رميت و لكن الله رمی » (الانفال:18) ۳ امیر امان اللہ خان (۱۸۹۲ء۔۱۹۶۰ء)امیر حبیب اللہ خان شاہ افغانستان کا تیسرا بیٹا جو ۱۹۱۹ء میں اپنے باپ کے قتل کے بعد افغانستان کا حکمران بنا۔۱۹۲۶ء میں اس نے امیر کی بجائے