انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 89

۸۹ فیصلہ مولوی صاحبان ہی کریں ٍ دور جانے کی ضرورت نہیں۔انہی مولوی صاحب سے دریافت کیا جائے۔اگر ان کے اپنے بیٹے کے متعلق دونوں قسم کے عقائد میں سے ایک اختیار کرنے کا سوال ہو تو وہ اس کے لئے کونسا عقیدہ پسند کریں گے۔کیا یہ کہ وہ نعوذ بالله رسول اللہ کو فاسق، فاجر ، ڈاکو، زانی گمراہ تسلیم کرے۔یا یہ کہ وہ یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت ﷺ کی امت کے افراد آپؐ کی غلامی میں نبوت کا مرتبہ بھی حاصل کر سکتے ہیں اور خواہ وہ کتنی بھی آپ کی اتباع میں ترقی حاصل کر جائیں پھر بھی ان کو یہی فخرہو گا کہ یہ آپ ؐکے نام کہلائیں۔وہ باوجود نبی ہونے کے آپؐ کے خادم ہی ہوں گے۔پھر میں ہر ایک غیر احمدی سے دریافت کرتا ہوں۔وہی انصاف سے بتائے کہ ان میں سے اگر کسی کو ایسا موقع پیش آئے کہ اس کے لئے صرف یہی دو راہیں ہوں تو وہ کونسی راہ اختیار کرے گا۔کیا وہ یہ پسند کرے گا کہ آریہ یا عیسائی ہو کر رسول الله ﷺ کا اور آپ کے دین کا دشمن ہو جائے یا وہ اس عقیدے کو تسلیم کرلینا منظور کرے گا کہ آپؐ کے بعد آپ کے خادموں میں سے نبی ہو سکتا ہے۔اور وہ نبی ہو کر بھی آپ کا خادم ہی رہے گا اور آپ کے دین کی اطاعت اور اشاعت کرے گا۔فرض کرو مولوی مرتضٰی حسن صاحب کے نزدیک دونوں عقیدے دو گمراہیاں ہیں۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ دونوں میں سے بڑی گمراہی کو نسی ہے۔اور کونسا عقيدہ اپنے بیٹے کے لئے وہ پسند کریں گے۔اگر تو وہ یہ اعلان کر دیں کہ میں اپنے بیٹے کے لئے یہ پسند کروں گا کہ وہ آریہ یا عیسائی ہو کر رسول اللہ ﷺ کا اور اسلام کا دشمن ہو جائے۔وہ بے شک آپ کو تمام انسانوں سے بد تر انسان کہنا شروع کر دے مگر یہ عقیدہ نہ رکھے کہ آپ کی اتباع اور غلامی میں کوئی نبی بھی ہو سکتا ہے۔تو میں سمجھوں گا کہ انہوں نے جو کچھ کہا دیانتداری سے کہا۔لیکن اگر وہ ایسا اعلان نہ کریں تو پھر ان کا یہ کہنا جھوٹ یا تعصب ہو گا کہ آریوں اور عیسائیوں سے جو رسول اللہ کو جھوٹا، زانی، فاسق، فاجر خیال کرتے ہیں، ان کی صلح ہو سکتی ہے لیکن احمدیوں کے باوجود آنحضرت ﷺسے محبت رکھنے اور آپ کے دین کی اطاعت اور اشاعت کرنے کے محض اس وجہ سے ان کی صلح نہیں ہو سکتی کہ وہ یہ عقیده رکھتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی امت میں سے آپ کی اتباع سے نبی ہو سکتا ہے۔جو نبی ہو کر بھی آپ کا خادم اور غلام ہی رہے گا۔غیر احمدیوں کے مقابلہ میں دیگر مذاہب کے لوگ اس کے مقابلہ میں ہماری یہ حالت ہے کہ