انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 84

۸۴ مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کو نصیحت بھالا یا نیزہ ہے کہ کوئی ڈھال اس کو روک نہیں سکتی کیا یہ واقعہ نہیں کہ بہت سے ایسے لوگ جو سخت سے سخت صداقت کے دشمن ہوئے ہیں اور شب و روز اس کے مٹانے میں مصروف رہے ہیں ان پر بھی بالآخر صداقت نے ایسااثر کیا کہ وہ اس کے گرویدہ ہو کر سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ہمیں اس سلسلہ میں بھی بھارت ایسے آدمی نظر آتے ہیں جو ایک وقت سلسلہ کے شدید ترین دشمن تھے اور اپنے بُغض و عِناد میں جو ان کو سلسلہ سے تھا حد سے بڑھے ہوئے تھے لیکن ایک چھوٹے سے کلمہ نے ان کے قلب پر ایسا اثر کیا کہ گویا ان کو ذبح کر ڈالا اور انہوں نے اپنی ساری عمر پشیمانی میں گزاری اور افسوس کرتے رہے کہ کیوں وہ اس قدر صداقت کی مخالفت کرتے رہے۔پس اگر ہماری اپنی اصلاح ہو اور ہمارے قلب صاف ہو جائیں اور خدا تعالی کی محبت اور مخلوق خدا کی ہمدردی ہمارے اندر جوش مارنے لگ جائے تو یقیناً کسی مخالف کی مخالفت میں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی بلکہ ان کی مخالفت ہمارے کام اور ہمارے مقصد میں بڑی بھاری معاون ہو سکتی ہے۔مخالفین کی مخالفت کس طرح ہماری معاون بن سکتی ہے ابھی کل پرسوں ہی کی بات ہے۔ایک شخص کا مجھے خط پہنچا ہے۔وہ نئے احمدی ہوئے ہیں۔انہوں نے لکھا ہے۔میں خدا تعالی کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مجھے سلسلہ حقہ کی طرف راہنمائی مولوی ثناء اللہ کی وجہ سے ہوئی ہے۔میں ان کے اخبار کا خریدار تھا اور بہت غور اور توجہ سے اس کو اور ان کی دیگر کُتب کو پڑھتا تھا لیکن میرے اندر کوئی تعصب نہیں تھا۔احقاق حق میرے مدنظر تھا۔جوں جوں میں ان کتابوں کو پڑھتا تھا۔مجھے ان کے کلام میں جابجاہنسی، تمسخر اور فریب نظر آتا تھا۔تب میں نے خیال کیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی گدی کے داروں سے تو ایسی حرکات سرزد نہیں ہو سکتیں۔اگر ان کے اندر یہی تقویٰ اور یہی شرافت رہ گئی ہے تو پھر یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔دیکھو دل کی پاکیزگی اور طہارت صداقت کی طرف کس طرح انسان کو کھینچ کر لے آتی ہے۔حضرت مسیح موعود عليہ السلام کے پاکیزہ دل سے نکلی ہوئی صداقت نے اس کے دل پر ایسا گہرا اثر کیا کہ مخالفین کی مخالفت اس اثر کو مٹانہ سکی اور پاکیزہ دل سے نکلی ہوئی صداقت نے اپنا کام کر کے ہی چھوڑا۔قلوب کی اصلاح کامیابی کی جڑ ہے پس اسلام کی اور سلسلہ کی سچی خدمت تبھی ہو سکتی ہے کہ ہم پہلے اپنے قلوب کی اصلاح کریں۔خدا تعالی کی محبت ہمارے اندر پیدا ہو اور عام مخلوق کی ہمدردی ہمارے اندر جوش