انوارالعلوم (جلد 8) — Page 51
۵۱ کیوں کرتے تھے تو یہ کونسی زبردست دلیل ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حضرت مرزا صاحب واقعی قابل تمسخرباتیں کیں بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ جیسے حضرت مرزا صاحب کے دشمنوں نے کہا کیوں انہوں نے ایسی باتیں کیں جو قابل تمسخر ہیں ویسے ہی سب انبیاء کے دشمنوں نے ان انبیاء کے متعلق کہا مگرخد اکہتاہے یہ ہنسی یہ جو انبیاء سے کرتے ہیں ان کے کام نہ آئے گا۔یہ زمین میں ہی ذلیل اور رسوا ہو کر رہیں گے۔کیونکہ خداکہتاہے یحسرة على العباد اے افسوس ان بندوں پر اور جس پر خدا افسوس کرے اس کی حالت کس قدر قابل افسوس ہوگی۔بندے کسی کی قابل افسوس حالت ہو جانے کے بعد افسوس کرتے ہیں مگر خدا پہلے ہی کرتا ہے کیونکہ جس طرح خدا کہتا ہے اسی طرح ہو کر رہتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ جب کوئی رسول آتا ہے تو خدا کو افسوس آتا ہے کہ کیوں اس سے ہنسی ٹھٹھاکر کے لوگ اس کے غضب کو بڑھاتے ہیں تو یہ لوگ آج ہنستے ہیں مگر ایک دن آئے گا کہ ساری دنیا ان پر روئے گی۔پس اگر اب حضرت مرزا صاحب کی باتوں پر لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں تو کسی کو حیران نہیں ہونا چاہے۔تم مت گھبراؤ کہ کیا وجہ ہے خدا کا مسیح آیا اور لوگ اس سے ٹھٹھا کرتے ہیں کیونکہ خدا کہتا ہے آدم سے اس طرح ٹھٹھا کیا گیا، پھر مت گھبراؤ کہ حضرت مسیح موعوؑد سے کیوں ٹھٹھا کیا جاتا ہے کیونکہ خدا کہتا ہے کہ نوحؑ سے بھی اسی طرح کیا گیا پھر مت حیران ہو کہ حضرت صاحب کی باتوں پر لوگ کیوں استہزاء کرتے ہیں کیونکہ خدا کہتا ہے موسیٰ، عیسیٰ، محمدﷺ کے زمانہ میں لوگ ان سے بھی ایسا ہی کرتے تھے۔انبیاء سے تمسخر کرنیوالوں کا انجام مگر ان باتوں کے نتیجے کیا ہوئے یہی کہ یحسرة على العباد ایک وہ دن آیا کہ لوگ ان پر حسرت کرنے لئے یہی حالت حضرت مرزا صاحب پر تمسخر کرنے والوں کی ہو ری ہے۔ہمارے سلسلہ کے مخالف کہتے ہیں ہم پر کیا حسرت ہوئی ہم تو تم سے زیادہ ہیں مگر دیکھو آج اسلام پر تیرہ سو سال سے زیادہ گذر چکے ہیں مگر مسلمان کہلانیوالوں سے دوسرے لوگ زیادہ ہیں دنیا کی ساری آبادی ایک ارب بیس کروڑ بتائی جاتی ہے اور یورپین لوگ کہتے ہیں مسلمان ۲۰کروڑ ہیں اور مسلمان کہتے ہیں ہم ۴۰ کروڑ ہیں۔اگر یہی تعدادمان لیں تو بھی کس قدر مخالف زیادہ ہیں۔باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺساری دنیا کی طرف آئے اور اس پر تیرہ سو سال گزر چکے آپ کے منکروں کی تعداددُ گنی ہے بہ نسبت ماننے والوں کے۔پس اگر محمدﷺ اپنے ماننے والوں کی