انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 50

۵۰ کہ ان سے ہنسی اور ٹھٹھا اور تمسخر لوگوں نے کیا۔کیوں کیا؟ میں نے سنا ہے آج ہی کسی شخص نے بیان کیا تھا کہ ہم پر احمد ی ناراض ہوتے ہیں اور اس وجہ سے ناراض ہوتے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کی باتوں پر ہنستے ہیں۔یہ کہنے کے بعد اس مولوی نے کہا ہم کیوں نہ ہنسیں مرزا صاحب قابل ہنسی اور تمسخربا تیں ہی کیوں لکھتے تھے کیوں ان کی زبان سے ایسی باتیں نکلیں جو ہنسی کے قابل ہیں۔مگر میں پوچھتا ہوں حضرت آدمؑ سے کیوں تمسخر کیا گیا؟ کیا ان سے تمسخر کرنے والے یہ کہتے تھے کہ آدمؑ کی کوئی بات قابل تمسخر نہیں ہے؟ اس لئے ہم اس سے تمسخر کرتے ہیں۔اسی طرح حضرت نوحؑ سے کیوں تمسخرکیاگیا۔کیا ان سے تمسخر کر نیوالے یہ کہتے تھے کہ اس کی بات قابل ہنسی نہیں مگر ہم اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔پھر لوگوں نے حضرت ابراہیمؑ سے کیوں ٹھٹھا گیا؟ کیا اس لئے کہ وہ کہتے تھے اس کی باتیں ایسی دل نشیں اور دلربا ہیں کہ ان کا کوئی انکار نہیں کر سکتا؟ مگر ہم ہنسی کرتے ہیں۔پھر حضرت یوسف ‘حضرت یعقوب ،حضرت اسحٰق سے ہنسی کی گئی۔پھر حضرت موسیٰ، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمان ،حضرت زکریا ،حضرت یحیٰی ، حضرت عیسیٰ علیهم السلام ان سب سے تمسخر کئے گئے کیا یہ کہہ کر لوگ ان سے تمسخر کرتے تھے کہ کوئی بات ان کی قابل تمسخرنہیں مگر ہم تمسخر کرتے ہیں۔پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ محمدﷺ جو سردار ہیں سب نبیوں کے ان سے بھی تمسخر کیا گیا۔کیا ان کی باتوں کو تمسخر کرنے والے قابل تسخیر کہہ کر کرتے تھے یا اس لئے کہ وہ کہتے تھے اس کی با تیں بڑی دانائی اور حکمت کی ہیں مگر پھر بھی ہم ان سے تمسخر کرتے ہیں۔ٍجس کے دماغ میں ذرا بھی عقل ہو وہ تویہ مان نہیں سکتا کہ وہ کہتے تھے کہ نبیوں کی باتیں تمسخر کرنے والی نہیں مگر پھر بھی ہم تمسخر کرتے ہیں۔صاف بات ہے کہ حضرت آدم ؑکے دشمن یہی کہا کرتے تھے کہ آدم کیوں ایسی باتیں کرتا ہے جو قابلِ تمسخر ہیں، حضرت نوحؑ کے دشمن یہی کہا کرتے تھے کہ نوح کیوں ایسی باتیں کرتا ہے جو قابلِ ہنسی ہیں، حضرت ابراہیم ؑکے دشمن یہی کہتے تھے کیوں ابرا ہیم ایسی باتیں کرتا ہے جن پر تمسخر کیا جاتا ہے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور آنحضرت ﷺکے دشمن بھی یہی کہتے تھے۔پھر اگر آج حضرت مسیح موعود ؑکے دشمن یہ کہیں کہ مرزا صاحب ٹھٹھے ہنسی والی باتیں ہی