انوارالعلوم (جلد 8) — Page 36
۳۶ اور صحیح کہتے ہیں کہ جس جنگل میں شیر ہو وہاں کوئی نہیں جاتا۔یا جس جنگل میں ڈاکہ پڑتا ہو وہاں سے لوگ بغیر حفاظت کے نہیں گزرتے۔پھر باوجود عرفان حاصل ہونے کے سمجھ میں نہیں آتا کہ غير المغضوب عليهم ولا الضالین کیوں فرمایا۔عرفان کے بعد غضب اور ضلالت کا کیا خوف؟ مگر میں کہتا ہوں یہ سچ ہے کہ عرفان کے بعد اس کا خوف نہیں ہوتا لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ عرفان کھویا بھی جاتا ہے۔پس اعلی ٰسے اعلی ٰعرفان اور علم کسی کو مطمئن نہیں کر سکتا کہ وہ غضب اور ضلالت سے بالکل مصئون ہو گیا۔کیونکہ ممکن ہے کہ ایک شخص کو عرفان اور علم ہو مگروہ اس سے چھینا جائے یا کھویا جائے۔عرفان کھوئے جانے کی مثال دنیا میں دیکھ لو۔ایک انسان دوسرے کو ملتا ہے۔اس حال میں کہ وہ دونوں ایک لمبا عرصہ جدا رہے ہیں جب وہ ملتا ہے تو کہتا ہے آپ نے مجھے پہچانا۔وہ کہتا ہے نہیں۔تو وہ کہتا ہے کہ میں اور آپ اکٹھے کھیلتے اور پڑھتے رہے ہیں۔وہ کہتا ہے کہ ابھی تک میں نے آپ کو نہیں پہچانا۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت کچھ تعارف سابقہ کی باتیں بتانے کے بعد بھی ایک شخص یہی کہتا ہے کہ افسوس میں نے آپ کو اب تک نہیں پہچانا اس سے ثابت ہوا کہ علم اور عرفان مٹائے بھی جاتے ہیں۔ہدایت کے بعد ضلالت اور اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ جو کہا جا تا ہے کہ فلاں شخص مخلص تھا، بڑا خادم تھا، اس کو کیونکر ٹھو کر لگ گئی۔اس کو ٹھوکر اسی وقت لگتی ہے جب اس کا اخلا ص کھویا جاتا ہے، یا مٹ جاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحیح راستہ معلوم ہونے کے باوجو لوگ راستہ سے ہٹ جایا کرتے ہیں ہدایت کو اختیار کر کے بھول بھی جایا کرتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے، ومن نعمرہ ننکسہ في الخلق لم جب عمر بڑھتی ہے تو قویٰ میں کمزوری آجاتی ہے۔پس جس طرح عمر میں بڑھاپا آنے سے علوم میں کمی آجاتی ہے۔اسی طرح بعض انسانوں اور روحانی طور پر بھی بڑھاپا آ جاتا ہے۔ایسی حالت میں کوئی عارف یا عالم جو الحمد لل کہنا جانتا ہو مگر پھر اس سے اس کی حقیقت گم ہو جائے وہ مغضوب عليهم میں شامل ہو سکتاہے۔اپنی فکر آپ کرو سورہ فاتحہ میں یہ بات بتا کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کسی کی ٹھو کر سے کوئی ٹھوکر نہ کھائے اور کسی سے گرنے سے کوئی نہ گرے۔جب تک کسی شخص کے متعلق خدانہ کہہ دے کہ یہ شخص غلطی سے محفوظ ہو گیا اور اب یہ ٹھو کر نہیں کھا