انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 35

۳۵ ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہو تے۔اور یہ نعمت اور ہدایت جو نہیں دی گئی اگر بجائے توریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے ان کے قیامت ہے منکر نہ ہوتے۔پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔یہ بڑی دولت ہے۔اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی۔قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدائتیں ہیچ ہیں“ ۵؎ یہ وہ تعلیم ہے کہ جو حضرت مسیح موعود ؑبہاء اللہ کے مرنے کے بعد دے رہے ہیں۔اور آپ کا عمل تو ظاہر ہی تھا۔ان حالات میں یہ خیال ایک منٹ کے لئے بھی درست نہیں ہو سکتا کہ حضرت مسیح موعودؑ اور بہاء اللہ جمع ہو سکتے ہیں۔یہ خیال ایسا ہی ہے جیسے تاریکی اور روشنی کو رات اور دن کو جمع کیا جائے۔صداقت کے اظلال حیرت ہے کہ ان لوگوں کو جنہوں نے کئی نشان دیکھے کیونکر ٹھوکر لگ گئی۔کوئی صداقت ایسی نہیں جو ؟ظل نہیں چھوڑتی انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے اظلال دیکھے۔بہاء اللہ کے خلیفہ کو مقابلہ پرلاؤ حضرت مسیح موعودؑ کے اظلال میں سے ایک میں ہوں کہ جس پر خدا نے ایسے کلام نازل کئے جو وقت پر پورے ہوئے اور آج بھی میں کہتا ہوں لاؤ میرے مقابلے میں عبد البہاء کے خلیفہ کو اور پھر دیکھیں خداتعالی کس کی صداقت ظاہر کرتا ہے۔میں نے رنگون ایک شخص کو لکھا تھا کہ لاؤ بہائی خلیفہ کو۔مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا اللہ تعالیٰ جس طرح ہم پر باتیں کھولتا ہے اس کی ایک دو تازه مثالیں پیش کرتا ہوں۔میں نے اسی مسجد میں کھڑے ہو کر گذشتہ فروری میں ایک خطبہ جمعہ پڑھا تھا جس میں کہا تھا۔گمراہ ہونے والوں کا ذکر ایک خطبہ جمعہ میں اس عظیم الشان ابتداء کے بعد جو الحمد سے ہوتی ہے کہتا ہے۔غير المغضوب عليهم ولا الضالین که خدایا مجھ پر غضب نہ نازل کرنا اور ایسا نہ ہو کہ میں تیری رضا کی راہ سے بہک جاؤں۔لوگ کہتے ہیں اور سچ کہتے ہیں کہ علم و معرفت سے انسان ہلاکت سے بچتا ہے۔لوگ کہتے ہیں