انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 620

۶۲۰ گئیں تو وہ ان کی صداقت کا اعتراف کرتے گو ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ ابھی ہم ان کو قبول نہیں کر سکتے۔سوسائٹی اور رسم و رواج کی وجہ سے انہیں قبول کرتے ہوئے ڈر آتا ہے۔غرض اس سفرمیں ایسی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ جو انسانی وہم و خیال سے بالا تر ہے اور جس بات کی طرف میں سرزمین ِہند پر قدم رکھتے ہوئے جماعت کو توجہ دلاتا آیا ہوں اور آج بھی دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا تعالی کی طرف سے ہی ساری کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور وہی حقیقی شکریہ کا مستحق ہے۔اور جماعت کو تیار ہو جانا چاہئے کہ خدا نے جوبیج بویا ہے اس کی آب پاشی کریں۔یہ بیج میسّر نہ آسکتا تھا اگر اس سفر کے بغیر کوشش کرتے رہتے۔لیکن خداتعالی نے ایسے سامان کر دیئے کہ بیج میسّر آ گیا۔اب جب کہ بیج اس نے بو دیا ہے اگر ہم اپنے اعمال اور قربانیوں کا پانی نہیں دیں گے تو بار آور نہیں ہو گا۔کیا کوئی بیج بغیرپانی کے اُگ سکتا ہے،ہرگز نہیں۔اسی طرح اس بیج کے متعلق سمجھنا چاہئے۔میں نے اس مجلس شوریٰ میں جس میں سفر یورپ کا سوال پیش ہوا تھا کہا تھا کہ اگر سفر کیا گیا تو پھر ان ممالک کی طرف بہت توجہ کرنی پڑے گی اور بہت سارو پیہ خرچ کرنے کی ضرورت ہوگی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ میں جاؤں ،بیج بویا جائے اور پھر آب پاشی نہ کروں اور بیج کو بھی ضائع کر دوں۔دیکھو جو زمیندا ردانہ بو کر پانی نہیں دیتا اس کا بویا ہوا دانا بھی ضائع ہو جاتا ہے۔مگر جو پانی دیتا ہے وہ وہی دانہ نہیں لاتاجو بوتا ہے بلکہ اس سے بیسیوں گنے زیاده لاتا ہے۔پس بیج بونے کے بعد اس کی حفاظت اور آب پاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔اور یہ خود سمجھ لو کہ جوبیج ساری دنیا میں بکھیر اگیا اس کے لئے کتنے پانی اور کس قدر نگہداشت کی ضرورت ہے۔پس اس سفر میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ آئندہ قربانیوں کا پیش خیمہ ہیں۔یہی وہ پیغام ہے جس کی طرف میں نے آج صبح اشارہ کیا تھا اور یہی وہ پیغام ہے جس کی طرف میں اس وقت جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جماعت کو اب پہلے کی نسبت بیسیوں گنا زیادہ کام اور زیادہ قربانیاں کرنا چاہئیں۔اب کام بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔جو اس قدر وسیع علاقہ میں پھیلایا گیا ہے کہ ہم اسے پانی نہیں دے سکتے اور انتہائی زور لگا کر بھی نہیں دے سکتے۔مگر یہ خدا تعالی کی سنت ہے کہ جب کوئی جماعت اس کے رستہ میں اپنا پورا زور اور ساری قوت صرف کر دیتی ہے تو پھر خدا تعالی اپنی تائید اور نصرت بھیج کر وہ کام کردیتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو کوئی کہے تمہارے پاس جتنے پیسے ہیں وہ دے دو باقی میں اپنے پاس سے ڈال کر تمہیں فلاں چیز لے