انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 598

۵۹۸ دعوی ٰکیا اور ۱۹۰۸ء میں وفات پائی۔لیڈی لِٹن کا ایک ہمراہی :۔ان کی زندگی میں ماننے والوں کی تعداد کیا تھی، اب کیا ہے؟ حضرت:۔شروع میں جب انہوں نے دعویٰ کیا تو صرف چالیس آدمی تھے پھر ان کی وفات تک ۵ لاکھ کے قریب آدمی شامل ہوئے اور اب یہ جماعت ایک ملین کے قریب ہے۔لیڈی لٹن:۔کیا ان کے دعویٰ کرنے پر لوگوں نے مخالفت نہیں کی؟ حضرت:- بہت سخت مخالفت ہوئی ہماری جماعت کی ہر مذہب کے لوگوں نے مخالفت کی۔حکومت کو بھی بد ظن کیا گیا۔جماعت کے لوگوں کو جو فرداً فردا ًتکالیف دی گئیں وہ نہایت سخت اور دل ہلا دینے والی تھیں۔گھروں سے نکال دیا گیا ،جائدادیں چھین لی گئیں ،پانی بند کر دیا گیا۔ہمارے ہاں عامطور پر نلوں کا سلسلہ نہیں ہے، کنوؤں سے پانی نکالا جاتا ہے۔ان کو پانی سے روک دیا گیا اور چھوٹے چھوٹے بچے پیاسے تڑپتے رہے مگر پانی نہیں دیا۔ان کے ہاتھ عام خوردنی اور روز مرہ کی ضرورت کی اشیاء فروخت کرنی بند کر دی گئیں۔ہر طرح سے ان کا بائیکاٹ کر دیا۔زندوں کے ساتھ ہی نہیں، مردوں کے ساتھ بھی دشمنی کی گئی۔لاش نکال کر کُتوں کے سامنے پھینک دی گئی اور لاش بھی ایک عورت کی۔اور افغانستان میں خود حکومت نے تین آدمیوں کو مروا دیا۔ایک کو گلا گھونٹ کر اور دو کو سنگسار کر کے۔ایک بھی ا۳-اگست ۱۹۲۴ء کو سنگسار کر دیا گیا ہے۔لوگوں نے بھی ایک درجن سے زیادہ آدمیوں کو ہلاک کر دیا ہے اور بعض کے مکانات کو جلا دیا۔غرض ہر جگہ ہر قسم کی تکلیف دی گئی ہیں مگر باوجود ان تمام مخالفتوں اور اذیتوں کے یہ جماعت ترقی کر رہی ہے۔لیڈی لٹن:۔کیا ان کا مذہب یونیورسل (Universal) تھا؟ حضرت:- وہ کوئی نیا مذہب لے کر نہ آئے تھے بلکہ وہ اسلام کی طرف دنیا کو دعوت دیتے تھے۔جن معنوں میں یونیورسل مذہب کی اصطلاح آج کل بولی جاتی ہے وہ درست نہیں ہے۔اسلام خود ایک یونیورسل مذہب ہے۔اس لحاظ سے وہ دنیا کو یونیورسل مذہب کی طرف بلاتے تھے ، پہلے جس قدر نبی آۓ وہ خاص قوم کے لئے، خاص وقت کے لئے آتے تھے مگر اسلام تمام دنیا کے لئے اور ہمیشہ کے لئے ہے، اسی کی طرف وہ بلاتے تھے۔لیڈی لٹن :۔اساسی اصول کیا ہیں؟ حضرت:- اساسی اصول وہی اسلام کے ہیں مگر حضرت مسیح موعود نے ان کی حقیقت کو ظاہر کیا۔مثلاً پہلا اصل یہ ہے کہ خدا تعالی کی ہستی اور اس کے ایک ہونے پر یقین ہو۔یہ یقین ایسا ہونا