انوارالعلوم (جلد 8) — Page 597
۵۹۷ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم تختہ جہازپرلیڈی لِٹن سے گفتگو (۱۳ نومبر ۱۹۲۴ء کو عرشہ جہاز پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اور لیڈی لِٹن کے مابین جو گفتگو ہوئی اُسے بعد میں محترم شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے اپنے الفاظ میں مرتب کیا۔مرتب) تختہ جہاز پر لیڈی لٹن سے گفتگو لیڈی لٹن نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کے متعلق انتظار فرمایا حضرت خلیفۃ المسیح :- دنیا کے تمام بڑے مذاہب آخری زمانہ میں خدا تعالی کی طرف سے ایک موعود کے آنے کے منتظر ہیں۔مسلمان یقین کرتے ہیں کہ آخری زمانہ میں امام مہدی آئیں گے اور ایسا ہی ان کا یقین ہے کہ مسیح موعود آئے گا۔عیسائیوں کا اعتقاد ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰؑ آئیں گے۔ہندوؤں کا اعتقاد ہے کہ کرشن آئیں گے اور بدھوں کا عقیدہ ہے کہ موسیودربہمی آئے گا۔اور جہاں تک ان پیشگوئیوں کے متعلق غور اور تحقیقات کی گئی ہے وہ تمام قومیں ان کے ظہور کا یہی وقت قرار دیتی ہیں۔حضرت مسیح موعود کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ ان وعدوں کے موافق ظاہر ہوئے ہیں۔انہوں نے یہ دعویٰ خدا سے وحی پا کر کیا اور بتایا کہ یہ مختلف اشخاص آنے والے نہ تھے بلکہ دراصل ایک ہی شخص کے متعلق پیشگوئیاں ہیں۔اس کے کام کے لحاظ سے اس کے یہ مختلف نام ہیں ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ خدا کی طرف سے نبی ہو کر آئے ہیں۔لیڈی لِٹن۔انہوں نے ایسا دعوی ٰکب کیا؟ حضرت:- الہام کا سلسلہ ۲۵ برس کی عمر میں شروع ہو گیا تھا مگر جب وہ ۴۰ سال کے ہوئے تو خدا تعالی نے ان کو مامور کیا کہ وہ دنیا کی اصلاح کریں۔انہوں نے ۱۸۹۰ء میں مسیح موعود ہونے کا