انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 546

۵۴۶ اس کو ماردیا۔آپ پر لوگوں کے ظلم خود رسول کریمﷺ کو بھی لوگ بہت دکھ دیتے تھے گو ڈرتے بھی تھے کیونکہ آپ کے خاندان کی مکہ میں بہت عزت تھی- لوگ آپ کو گالیاں دیتے بعض دفعہ نمازمیں جب آپ سجدہ کرتے تو سر پر اوجھڑی ڈال دیتے- کبھی سر پرراکھ پھینک دیتے- ایک دفعہ آپ سجدہ میں تھے کہ ایک شخص آپ ؐکی گردن پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوگیا اور دیر تک اس نے آپ کو اسی طرح دبائے رکھا- ایک دفعہ آپ عبادت کے لئے خانہ کعبہ میں گئے تو آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر گھونٹنا شروع کردیا۔۵۲؎ مگر باوجود ان مخالفتوں کے آپ تبلیغ میں لگے رہتے اور ذرہ پرواہ نہ کرتے- آپ کا تعلیم دینا جہاں بھی لوگ بیٹھے ہوتے آپؐ وہاں جا کر ان کو تعلیم دیتے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اس کے سوا کوئی شخص معبود نہیں- نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی- نہ اس کے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی کا بیٹاہے- نہ زمین میں نہ آسمان میں اس کا کوئی شریک نہیں - اس پر ایمان لانا چاہیے اور اسی سے دعائیں مانگنی چاہئیں- وہ لطیف ہے اس کو کوئی نہیں دیکھ سکتااس میں سب طاقتیں ہیں- اسی نے دنیا کو پیدا کیا ہے اور جب لوگ مرجاتے ہیں تو ان کی روحیں اسی کے پاس جاتی ہیں اور ایک زندگی ان کو دی جاتی ہے۔اور چاہیے کہ اس کی محبت کو اپنے دل میں پیدا کرے اور اس سے تعلق کو مضبوط کریں اور اس کے قریب ہونے کی خواہش کریں اور اپنے خیالات اور اپنی زبان کو پاک کرں - جھوٹ نہ بولے- قتل نہ کرے، فساد نہ کرے،چوری نہ کرے، ڈاکہ نہ مارے، عیب نہ لگائے- طعنہ نہ دے، بدکلامی نہ کرے،ظلم نہ کرے، حسد نہ کرے اور اپنے وقت کو اپنے آرام اور عیاشی میں صَرف نہ کرے بلکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی اور بہتری میں اور محبت اور اُنس کی اشاعت کرے- مشرکوں کی حالت کا نقشہ یہ تعلیم تھی جو آپ دیتے مگر باوجود اس کے کہ یہ تعلیم اعلیٰ درجہ کی تھی لوگ آپ پر ہنستے- مکہ کے لوگ سخت بُت پرست تھے اور سینکڑوں بت بنا کر انہوں نے اپنے معبد میں رکھے ہوئے تھے جس کے سامنے وہ روزانہ عبادت کرتے تھے اور جن کے آگے باہر سے آنے والے لوگ نذرانے چڑھاتے تھے جن پر کئی معزز خاندانوں کا گزارہ تھا- ان لوگوں کے لئے ایک خدا کی عبادت بالکل عجیب تعلیم تھی ،وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ کیوں انسان کی شکل میں یا کسی پتھر کے بُت میں ظاہر نہیں ہوسکتا- وہ