انوارالعلوم (جلد 8) — Page 545
۵۴۵ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ اے اہل مکہ! اگر میں تم کو یہ ناممکن خبر دوں کہ مکہ کے پاس ہی ایک بڑا لشکر اُترا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ یہ بات بظاہر ناممکن تھی کیونکہ مکہ اہل عرب کے نزدیک متبرک مقام تھا اور یہ خیال بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی قوم اس پر حملہ کرنے آئے گی اور پھر یہ بھی بات تھی کہ مکہ کے جانور دور دور تک چرتے تھے اگر کوئی لشکر آتا تو ممکن نہ تھا کہ جانور چَرانے والے اس سے غافل رہیں اور دوڑ کر لوگوں کو خبر نہ دیں۔مگر باوجود اس کے کہ یہ بات ناممکن تھی سب لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کی بات ضرور مان لیں گے کیونکہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے- آپ نے فرمایا کہ جب تم گواہی دیتے ہو کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا تو میں تم کو بتاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ میں اس کا پیغام تم کو پہنچاؤں اور یہ سمجھاؤں کہ جو کام تم کرتے ہو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا- یہ بات سنتے ہی لوگ بھاگ گئے اور کہا کہ یہ شخص پاگل ہوگیا ہے یا جھوٹا ہے- تمام شہر میں شور پڑ گیا اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے تھے ان پر نہایت سختیاں ہونے لگیں- بھائی نے بھائی کو چھوڑ دیا،ماں باپ نے بچوں کو نکال دیا،آقاؤں نے نوکروں کو دکھ دینا شروع کیا، چودہ چودہ پندرہ پندرہ سالہ نوجوانوں کو جو کسی رسم ورواج کے پابند نہ تھے بلکہ مذہب کی تحقیق میں اپنی عقل سے کام لیتے تھے اور اسی لئے جلد آپ پر ایمان لے آتے تھے۔ان کے ماں باپ قید کردیتے اور کھانا اور پانی دینا بند کردیتے تاکہ وہ توبہ کرلیں مگر وہ ذرہ بھی پرواہ نہ کرتے تھے اور خشک ہونٹوں اور گڑھے میں گھسی ہوئی آنکھوں سے اﷲتعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے۔یہاں تک کہ ماں باپ آخر اس ڈر سے کہ کہیں مر نہ جائیں ان کو کھانا پینا دے دیتے۔نوجوانوں پر تو رحم کرنے والے لوگ موجود تھے مگرجو غلام آپ پر ایمان لائے ان کی حالت نہایت نازک تھی۔اور یہی حال دوسرے غرباء کاتھا جن کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا- غلاموں کو لوہے کی زرہیں پہنا دیتے تھے اور پھر ان کو سورج کے پاس کھڑا کر دیتے تھے تاکہ موسم گرم ہو کر ان کا جسم جھلس دے (یہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہ عرب کا سورج تھا نہ کہ انگلستان کا) بعض کی لاتوں میں رسیاں ڈال کر ان کو زمین پر گھسیٹتے تھے- بعض دفعہ لوگ لوہے کی سیخیں گرم کرکے ان سے مسلمانوں کا جسم جلاتے تھے اور بعض دفعہ سوئیوں سے ان کے چمڑوں کو اس طرح چھیدتے تھے جس طرح کہ کپڑا سیتے ہیں مگر وہ ان سب باتوں کو برداشت کرتے تھے اور عذاب کے وقت کہتے جاتے تھے کہ وہ ایک خدا کی پرستش کو نہیں چھوڑ سکتے- ایک عورت جو نہایت ہی پختہ مسلمان تھی اس کے پیٹ میں نیزہ مار کر