انوارالعلوم (جلد 8) — Page 539
۵۳۹ جذبات۔خوشی اس لئے کہ ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جس سے ان کی نسل دنیا میں قائم رہے گی اور نام محفوظ رہے گا۔اور غم اس وجہ سے کہ وہ بچہ اپنی ماں کو ایک نہایت ہی محبت کرنے والے خاوند کی اور اپنے دادا کو ایک نہایت ہی اطاعت گزار بیٹے کی جو اپنے بچہ کی پیدائش سے پہلے ہی اس دنیا کو چھوڑ چکا تھا یا ددلا رہا تھا۔اس کی شکل اور شباہت ،اس کا سادگی سے مسکرانا، اس کا حیرت سے اس نئی دنیا کو دیکھنا جس میں وہ بھیجا گیا تھا غرض اس کی ہر ایک بات اس نوجوان خاوند اور بیٹے کی یاد کو تازہ کرتی تھی جو سات ماہ پہلے اپنے بوڑھے باپ اور جوان بیوی کو داغ جدائی دے کر اپنے پیدا کرنے والے سے جاملا تھا، مگر خوشی غم پر غالب تھی کیونکہ اس بچہ کی پیدائش سے اُس مرنے والے کانام ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا۔دادا نے اس بچہ کا نام جو پیدائش سے پہلے ہی یتیم ہو چکا تھا مُحمد رکھا اور اس یتیم بچہ نے اپنی والدہ اور اپنے چچا کی ایک خادمہ کے دودھ پر پرورش پانی شروع کی۔آپ ؐکی پرورش مکہ کے لوگوں میں رواج تھا کہ وہ اپنے بچوں کو گاؤں کی عورتوں کو پرورش اور دودھ پلانے کے واسطے دے دیتے تھے کیوں کہ وہ سمجھتے تھےکہ بچہ کی پرورش شہر میں اچھی طرح نہیں ہوسکتی اور اس طرح صحت خراب ہو جاتی ہے۔مکہ کے ارد گرد کے تیس چالیس میل کے فاصلہ کے گاؤں کے لوگ وقتاً فوقتاً شہر میں آتے اور بچوں کو لے جاتے اور جب وہ پال کر واپس لاتے تو ان کے ماں باپ پالنے والوں کو بہت کچھ انعام دیتے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد جب یہ لوگ آئے تو ان کی والدہ نے بھی چاہا کہ آپ کو بھی کسی خاندان کے سپرد کر دیں مگر ہر ایک عورت اس بات کو معلوم کر کے کہ آپ یتیم ہیں آپ کو لے جانے سے انکار کردیتی۔کیونکہ وہ ڈرتی تھی کہ بِن باپ کے بچہ کی پرورش پر انعام کون دے گا۔اس طرح یہ آئندہ بادشاہوں کا سردار ہونے والا بچہ ایک ایک کے سامنے پیش کیا گیا اور سب نے اس کے لے جانے سے انکار کردیا۔آپﷺ کی دائی حلیمہ کا عجیب و غریب واقعہ مگر خدا تعالی کی قدرتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔اس نے اس مبارک بچہ کی والدہ کا دل رکھنے کے لئے اور اس بچہ کے گاؤں میں پرورش پانے کے لئے اور سامان کر چھوڑے تھے۔یہ لوگ جوبچے لینے کے لئے آئے تھے ان میں سے غریب عورت حلیمہ