انوارالعلوم (جلد 8) — Page 511
۵۱۱ طالب علم :۔یہ بالکل درست ہے۔عبدا لحکیم۔سارے قرآن میں یہ ذکر نہیں کہ آنحضرت ﷺکے بعد کوئی رسول آئے گا۔حضرت:۔یہ بحث تو الگ رہی کہ ذکر ہے یا نہیں۔لیکن فرض کرو کہ ایک شخص کا خیال ہے کہ رسول آئے گا تو اس کو کیا کہو گئے۔عبدالحکیم :۔کیا وہ شریعت کو مکمل سمجھتا ہے؟ حضرت:- ہاں وہ مکمل سمجھتا ہے۔اور باوجود اس کے وہ مانتا ہے کہ ایک رسول آیا ہے۔یہ خیال غلط ہے یا صحیح مگر وہ مانتا ہے تو اس رسول کا جو انکار کرے اس کو وہ کیا کہے گا اور اس کا کیا حق ہے۔عبدالحکیم :- ہاں اس کا حق ہے کہ وہ نہ ماننے والے کو کافر کہے۔حضرت :۔تو پھر معلوم ہوا کہ یہ سوال نہیں کہ کافر کیوں کہتے ہو بلکہ سوال یہ ہو گا کہ کہاں لکھا ہے کہ رسول آۓ گا-(اس پر حضرت اقدس نے سورہ اعراف کا تیسرا رکوع نکال کر پڑھا اور سوال کیا کہ اس میں یا بنی آدم کا جو خطاب ہے، یہ کس زمانہ کے لوگوں کیلئے ہے۔) پروفیسر عبدالحکیم:۔وہ جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے یا آئندہ آئیں گے۔حضرت:۔بہت اچھا اب آگے چلئے چوتھے رکوع میں فرماتا ہے۔یبني ادم اما یا تینکم رسل منکم يقصون عليكم أياتي ۴۲؎ اس میں کون لوگ مراد ہیں؟ پروفیسر عبدا لحکیم :- وہی جو موجود تھے یا جو آئندہ ہوں گے۔حضرت:۔پھر یہ آیت کیا ثابت کرتی ہے؟ پروفیسر عبدالحکیم:۔اس آیت سے یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء آئیں گے۔میں نے جب اس کوپڑھاتھاتویہی سمجھا تھا کہ رسول آئیں گے۔حضرت:- پھر قرآن مجید سے یہ تو ثابت ہے کہ رسول آئیں گے پھر جو شخص کسی رسول کو مانتا ہے کہ آگیا ،کیا اس کو یہ حق نہیں کہ اس کے نہ ماننے والوں کو کافر کہے؟ پروفیسر عبدا لحکیم۔۔ہاں اس کا حق ہے۔وہی طالب علم :۔مگر میں نے مولوی محمد علی صاحب کے ترجمہ قرآن مجید میں یہ معنی نہیں پڑھے۔حضرت:۔اس کا مجھ سے کیا تعلق میں تو آپ ترجمہ کرتاہوں اور ترجمہ صاف ہے۔میں مولوی محمد علی صاحب کی اتباع نہیں کرتا۔اور میں تعلّی سے نہیں کہتا بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں