انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 510

۵۱۰ اہلحدیث اور دوسرے لوگوں نے جو خلافت کے قائل نہیں مخالفت کی تو اب ان کے بعض لیڈر تسلیم کرتے ہیں کہ جو طریق میں نے بتایا تھا وہی صحیح تھا۔اور اب جس حالت میں یہ مسئلہ آگیا ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔میں نے ہر موقع پر اپنی طاقت کے موافق مدد دینی چاہی ہے لیکن یہ ہم سے نہیں ہوسکتا تھا کہ ہم مذہب کو قربان کردیں۔مذہب کے لئے ہم ہر ایک قربانی کر سکتے ہیں مگر اس صداقت کو ہم نہیں چھوڑ سکتے جو خدا کی طرف سے آئی ہے۔(حضرت کی اس تقریر کا بہت اثر ہوا اور پروفیسر عبدا لحکیم صاحب کہنے لگے کہ یہ بالکل درست ہے۔میں جب قسطنطنیہ میں تھا اور سید امیر علی اور سرآغاخان صاحب کی طرف سے خلافت کی تائید میں خیالات کا اظہار ہوا تو لوگ کہتے تھے کہ یہ خود تو خلافت کے قائل نہیں۔) پہلا طالب علم نے میری سمجھ میں تو آپ کی پوزیشن آگئی ہے اور جو اعتراضات آپ پر ملک کی آزادی کے متعلق ہوتے ہیں وہ درست نہیں یہ بات بالکل صاف ہو گئی ہے۔مسلمانوں کو کافر کہنا ایک طالب علم :۔کہتے ہیں کہ آپ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں؟ حضرت:- آپ عیسائیوں کو کافر کہتے ہیں تو کیا ان کا حق ہے کہ آپ کو مار دیں؟ طالب علم۔۔لا إله إلا الله محمد رسول الله اسلام کا خلاصہ ہے۔پھر جب کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہے تواحمدی اس کو کافر کیوں کہتے ہیں؟ حضرت :۔ایک بات میں آپ سے پوچھتا ہوں۔اگر کوئی شخص یہی کلمہ پڑھتاہو مگر یہ کہے کہ میں موسیٰؑ علیہ السلام کو نبی نہیں مانتا وہ نعوذبا لله مفتری تھے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ طالب علم :۔کا فرہی ہوگا۔(اس موقع پر پروفیسر عبدالحکیم صاحب نے سلسلہ کلام شروع کیا اور کہا۔) عبدا لحکیم:۔اس میں ایک مغالطہ ہے۔آنحضرت ﷺشریعت کو کامل کر گئے اور اب کوئی چیز دین کے لئے باقی نہیں اس لئے میں اس بات کے لئے مجبور نہیں ہوں کہ کسی دوسرے کو نبی یا نیک سمجھوں۔اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺکو مانتا ہو اور موسیٰؑ کاغلام نہ ہو تو میرے خیال میں وہ مسلمان ہو گا۔حضرت:۔آپ کے خیال کو میں نہیں پوچھتا۔دوسرے مسلمان اس کو مسلمان نہیں مانتے اور نہیں مانیں گے جو حضرت موسیٰؑ کا انکار کرے۔