انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 488

۴۸۸ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم ہندوستانی طلباء کاایڈریس اور اس کا جواب (۱۵۔ستمبر ۱۹۲۴ء کو چار بچے شام حضرت خلیفۃ المسیح اور آپ کے خدام کو ہندوستانی طلباء کی طرف سے چائے کی دعوت چودھری غلام حسین صاحب کی سیادت میں دی گئی۔اس دعوت میں مسلمان طلبائے ہند کی ایک کثیر تعداد شریک تھی اور بعض ہندو احباب بھی تھے اور کچھ نومسلم خواتین بھی۔طلباء کی طرف سے ایک ایڈریس انگریزی زبان میں حضرت صاحب کو پیش کیا گیا جس کو مسٹر سہگل ایک ہندو نوجوان نے پڑھا۔مسٹر سہگل لاہور کے ایک مشہور اور ممتاز خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔انہوں نے ایڈریس کے پڑھنے کے بعد کہا کہ میں اگر چہ ہندو ہوں مگر اس ایڈریس کو پڑھنے اور پیش کرنے کی عزت کو میں بہت بڑی عزت سمجھتا ہوں۔ایڈریس کے پڑھے جانے کے بعد حضرت صاحب نے اس کا جواب اردو میں دیا اور چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے انگریزی دان حاضرین کے لئے مرتجلاًاس کا ایسالطیف خلاصہ سنایا کہ ہر زبان پر عش عش تھا۔(عرفانی) ہندوستانی طلباء کا ایڈریس یور ہولی نس! ہم صدق دل سے جناب کو ایک ممتاز ممبراسلام ہونے کی حیثیت میں آج یہاں تشریف فرمائی پر خوش آمدید کہتے ہیں۔۱۔ہم سب جو یہاں حاضر ہیں آج جناب کے یہاں رونق افروز ہونے پر بہت فخر کرتے ہیں اور ہم جناب کے خد مت اسلام کے لئے یورپ تشریف لانے کو نہایت ہی قدرو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس عظیم الشان کام میں جناب کی ہر کامیابی کے لئے صدق دل سے دعا کرتے ہیں۔۲۔آج یورپ ایک عالمگیر مذہب کے لئے بہت حاجتمند ہے اور اسلام ہی اکیلا مذہب ہے جو اس صورت میں تسلی کا موجب ہو سکتا ہے کیونکہ عیسائیت ( جو آج چرچ سکھاتا ہے۔) یورپین