انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 443

۴۴۳ دوره یو رپ ٹھہر کر تعلیم و تدریس کا کام شروع کیا۔بعض امور پر ناراض ہو کر حکومت برطانیہ کے قائم مقاموں نے ان کو قاہرہ میں نظر بند کر دیا۔اور اب وہ دوسرے فریق کے رئیس اور سردار ہیں کہ وہ بھی خلیفہ کے انتخاب کے لئے ایک اجلاس عام کامحرک و مؤیّد ہے۔خلیفہ کی تعیین اور مسلمانان ہند کی طرف نظر ٍٍجہاں تک باتوں سے معلوم ہوتا ہے دونوں فریق اپنے دل میں کسی نہ کسی شخص کی تعیین کر چکے ہیں جس کی تائید وہ اس جلسہ میں جمع ہونے والے لوگوں سے کروانا چاہتے ہیں مگر وہ اس کا اظہار نہیں کرنا چاہئے تاکہ دوسرے مسلمان علیحدہ نہ ہو جائیں۔بہر حال اتنی بات ثابت ہے کہ ایک فریق ملک نواز والئی مصر کی خلافت کا خواہاں ہے اور دوسرا فریق اس امر میں ان کی مخالفت پر آمادہ ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف دونوں جماعتوں کی نگاه ہے۔میرے نزدیک یہ دونوں فریق ہی ایک غلط راہ پر چل رہے ہیں۔اور اپنا وقت ضائع کررہے ہیں سیاسی امور میں بھی کوئی قوم ایک ہاتھ پر جمع نہیں ہوسکتی۔جب تک فی الواقع اس کی زیرِ حکومت نہ ہو۔مختلف حکومتوں کے ماتحت رہنا اور ایک شخص کے ہاتھ پر سیاسی طور پر جمع ہو جانا ایک احمقانہ خیال ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔مسلمان صرف روحانی خلیفہ کے ہاتھ پر جمع ہو سکتے ہیں آج اگر یک ہاتھ پر مسلمان جمع ہوسکتے ہیں تو صرف روحانی خلیفہ کے ہاتھ پر۔کیونکہ اس کے ہاتھ پر جمع ہونے سے کوئی حکومت مانع نہیں ہوگی یا کم از کم اس کو منع کرنے کا حق نہ ہو گا اور اگر منع کرے گی تو سب دنیا میں ظالم کہلائے گی۔سیاسی معاملات کاحال بالکل الگ ہے۔کوئی حکومت اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی اور ہر حکومت حق بجانب ہوگی اگر وہ اجازت نہ دے کہ اسکی رعایا کی دوسرے شخص کی سیاسی امور میں فرمانبرداری کرنے کا عہد کرے۔در آنحالیکہ وہ شخص جس کے ہاتھ پر اس کی رعایا مجتمع ہو اس کے قبضہ سے باہر اور اس کے تصرّف سے الگ ہو۔دو اور معززین کاملا قات کے لئے آنا علاوه ان لوگوں کے درد اور معزز آدمی بھی ملنے کے لئے آئے لیکن افسوس کہ بوجہ باہر ہونے کے مجھے ان سے ملنے کا موقع نہ ملا۔ان میں سے ایک تو ترکی ریئس تھے جو اپنا ملک چھوڑ کر لئے مصر میں آئے تھے کہ وہاں عربی علوم کی خدمت کروں گا اور کوئی بھی خدمت کر سکو