انوارالعلوم (جلد 8) — Page 442
۴۴۲ دوره یو رپ مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کی تھی۔اور جس کے جواب میں آپ نے الھدیٰ لکھی تھی۔انکی پارٹی پہلے سب سے طاقتور تھی اب بہت کمزور ہے۔دوسری پارٹیوں کو بہ حیثیت پارٹی ہم سے مخالفت نہیں مگر عوام کی آواز کی اتباع سب اپنا فرض سمجھتے ہیں۔حتی کہ مسیحی اخبار کیونکہ بغیر اس کے بِکری ناممکن ہے۔اخبارات کی طرف سے مدد کا وعدہ جن اخبار نویسوں سے ہمارے دوست ملے انہوں نے آئنده ہر طرح مدد کرنے کا وعدہ کیا۔حتی ّٰکہ وطنی اخباروں نے بھی۔بلکہ بعض نے مضامین بھی لکھے ہیں۔خصوصا ًمسیحی اخبار مقطم اور انگریزی اخبار ایجپشین گزٹ کے ایڈیٹروں نے تو خاص طور پر وعدہ کیا اور مضمون لکھے بھی۔امید ہے آئندہ ان اخبارات میں سلسلہ کا ذکر ہوتا رہے گا۔اور مخالف اخبارات کا جواب دینے کے لئے موافق اخبارات بھی موجود رہیں گے۔ازہر کی خلافت کمیٹی سے ملاقات علاوه مذکوره با لوگوں کے جن سے ملنے ہمارے لوگ خود جاتے رہے بعض لوگ گھر پر بھی ملنے آتے رہے۔چنانچہ جامع ازہر کے ماتحت جو خلافت کمیٹی بنی ہے اور جس کا منشاء یہ ہے کہ آئندہ سال مارچ میں ایک عظیم الشان جلسہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا کرکے اس میں یہ فیصلہ کرے کہ کون شخص خلیفہ ہونا چاہیے ،اس انجمن کے پریزیڈنٹ اور سیکرٹری اور بعض اور دوسرے لوگ ملنے کے لئے آئے اور خلافت کے متعلق تذکرہ کرتے رہے۔ہم نے جہاں تک ہو سکا ان کو ہندوستانی لوگوں کے خیالات بتادیئے اور اپنی بے تعلقی کا بھی ذکر کردیا۔مگر وہ لوگ اپنے خیالات میں کچھ ایسے منہمک تھے کہ باوجود اچھی طرح سمجھادینے کے پھر بھی جو خیالات کہ ہم نےدوسرے مسلمان فرقوں کی طرف منسوب کرکے بیان کئے تھے انہوں نے ہماری طرف ان کو منسوب کر کے اخبارات میں شائع کرادیا۔دوسرے دن پھر وہی لوگ ملنے آئے مگر میں گھر پر نہ تھا۔یہ جماعت از ہر کے ماتحت کام کر رہی ہے۔اس واسطے نیم سرکاری ہی سمجھنی چاہیے۔مصر کے ایک مشہور صوفی اس کے بعد مصر کے ایک مشہور صوفی سید ابو العزائم صاحب ملنے آئے۔یہ صاحب مصر کے بہت بڑے پیر ہیں۔اور کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ ان کے مرید ہیں۔زبان نہایت ہی صاف ہے اور نہایت بے تکلفی سے فصیح عربی بولتے ہیں۔مغربی بلاد سے ہجرت کر کے مصر میں آئے تھے۔کسی گاؤں میں