انوارالعلوم (جلد 8) — Page 324
۳۲۴ نطفہ کی طرح ہوتی ہے جو رِحم مادر میں قرار پاتا ہے اور ان اعمال کے مطابق جو دنیا میں انسان نے کئے ہوتے ہیں اس کے اندر ایک تغیر پیدا ہونا شروع ہوتا ہے اور جس طرح رحم مادر میں بچہ نشو و نما پاتے پاتے ایک ایسی حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ اس میں سے ایک اور روح پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح انسانی روح مختلف حالات میں سے گزرتے گزرتے ایک ایسا تغیر پیدا کرتی ہے کہ اس کے اندر ایک اور روح جو اس دنیا کی زندگی کی روح سے بہت اعلیٰ و ارفع اور زیادہ قوتیں اور تیز احساس رکھتی ہے پید اہو جاتی ہے اور پہلی روح اس کے لئے بمنزلہ جسم کے ہو جاتی ہے جس کے ذریعہ سے انسان ان ا مور کو جن کو انسان روحانی آنکھوں سے دیکھ سکتا تھا جسمانی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کیونکہ وہاں جسم اپنی لطافت میں اس دنیا کی روح کی سی کیفیت رکھتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ایک نئے تغیر کے ماتحت وہ اسی روح سے تیار ہوتا ہے۔اس تغیر کے بعد ایک اور تغیر روح میں پیدا ہوتا ہے جسے اس دنیا کی چیزون سے بچہ کی پیدائش کے واقعہ سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔یہ وہ تغیر ہے جسے "حشر اجساد" کے نام سے موسوم کرتے ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ زمانۂ قبر میں انسان کی نئی زندگی کے مناسب حال جسم اور روح تیار ہو گئے ہیں جس طرح کہ رحم مادر میں جب بچہ کامل ہو جاتا ہے اور روح پیدا ہو جاتی ہےتو پھر وہ باہر آ جاتا ہے اسی طرح گویا وہاں وہ اس حالت قبر سے باہر آ جائے گا۔اس حشر اجساد کے بعد ایک دوسرا زمانہ اسلام یوم حشر کا بتاتا ہے جسے بچپن کی عمر سے تشبیہ دینی چاہئے جس میں وہ اپنے علم اور اپنی عقل کو اپنی نئی زندگی کے لئے ترقی دیتا اور بڑھاتا ہے۔اس زمانہ میں روحوں کی قوتیں اس زمانہ سے جو زمانہ قبر کہلاتا ہے زیادہ نشو و نما یافتہ ہوتی ہیں۔مگر پھر بھی وہ کامل نہیں ہوتیں۔مگر اس دن کے اثرات اور تغیرات کے بعد وہ کامل ہو جاتی ہیں اور ان کی حالت اس بالغ بچہ کی طرح ہو جاتی ہے جو اب دنیا کی کیفیات کو پورے طور پر محسوس کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔اس حالت کمال کو آخری فیصلہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں جس کے بعد انسان اس آخری حالت کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے۔جسے جنت یا دوزخ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ان تینوں زمانوں میں انسان اپنی روحانی حالت کے مطابق سکھ یا دکھ پاتا رہتا ہے یعنی پہلی پیدائش کے زمانہ میں بھی جنت یا دوزخ کے دکھ یا سکھ اپنے احساسات کے مطابق پہنچتے رہتے ہیں اس زمانہ میں بھی جو یوم حشر کہلاتا ہے اور بچپن کی عمر سے مشابہ ہے وہ دکھ یا سکھ جس سے اس