انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 278

۲۷۸ حکمتوں کے ماتحت کیا گیا ہے بعض لوگ اس فرق میں بے انصافی دیکھتے ہیں حالانکہ عورتوں کے حقوق اب تک بھی محفوظ نہیں ہیں صرف اسلام ہی ہے جس نے عورتوں کو پورے حق دلائے ہیں۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے ماں پر خرچ کی کوئی ذمہ داری نہیں رکھی تمام اخراجات مرد پر رکھے ہیں۔اس وجہ سے مرد کی مالی ذمہ داری بہ نسبت عورت کے بہت زیادہ ہوتی ہے پس وہ زیادہ حصہ کا مستحق ہے پس وہ زیادہ حصہ کا مستحق تھا۔بچوں کی پرورش بیوی کی پرورش مرد کے ذمہ ہے عورت اگر نکاح کرے گی تو اس کا اور اس کی اولاد کا خرچ اس کے خاوند کے ذمہ ہو گا۔اگر نہ کرے گی جسے اسلام پسند نہیں کرتا تو وہ اکیلی جان ہو گی مگر مرد اگر نکاح کرے گا اور اسی کا اسلام اسے حکم دیتا ہے تو اسے اپنی بیوی اور بچوں کا خرچ برداشت کرنا ہو گا پس مرد کا عورت سے دگنا حصہ مرد کی رعایت کے طور پر یا عورتوں کی ہتک کے طور پر نہیں ہے بلکہ واقعات کو مدنظر رکھ کر یہ حکم دیا گیا ہے اور عورتوں کو اس میں ہرگز نقصان نہیں بلکہ وہ شاید پھر بھی فائدہ میں رہتی ہیں۔اولاد پر والدین کے حقوق اس طرح مقرر فرمائے ہیں کہ وہ اپنے والدین کی عزت کریں ان کی فرمانبرداری کریں اور جب وہ ناقابل ہو جائیں تو ان کی ضروریات کے کفیل ہوں اور ان کے احساسات کو صدمہ نہ پہنچنے دیں۔ان سے تُرشروئی سے پیش نہ آویں بلکہ ان کے لئے دعائیں کریں ا ور خدا تعالیٰ سے ان کی بہتری کے لئے عرض کرتے رہیں۔بہائیوں کا بہائیوں پر یہ حق مقرر فرمایا ہے کہ وہ اپنے لاوارث بہائیوں کو پا لیں اور اسی طرح اگر بہائی لاوارث ہوں تو ان کے وارث بنیں۔دوسرے رشتہ داروں پر بھی یہی حق مقرر کیا گیا ہے کہ اگر بہائی بھی نہ ہوں تو باپ کی طرف کے رشتہ دار، وہ نہ ہوں تو ماں کی طرف کے رشتہ دار پرورش کریں اور ان کے لا وارث مرنے کی صورت میں ان کے وارث ہوں۔خاندان کے بعد محلہ دار اور ہم وطن لوگوں کے تعلقات ربوبیت میں شامل ہیں۔ان کے متعلق اسلام حکم دیتا ہے کہ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (النساء:37) اور اپنے والدین سے نیک سلوک کرو اور یتامیٰ سے اور مسکینوں سے اور قریب کے ہمسایہ سے اور دور کے ہمسایہ سے اور شریک فی العمل سے اور مسافر سے اور غلاموں سے۔تمدن کی اساس مختلف لوگوں کے نیک تعلقات ہی ہیں اور خصوصاً غرباء کی خبرگیری جو گویا پیچھے رہے ہوں بہائی ہیں۔اسلام نے ان سب لوگوں کے حقوق کو بیان کر کے تعلقات کو نہایت