انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 260

۲۶۰ چیز حرام ہے جو دین سے انسان کو باہر نکال دیتی ہے اور بے غیرتی پیدا کر دیتی ہے یعنی وہ چیز جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام بلند کیا گیا ہو یعنی یا تو اسے کسی اور معبود کی خوشی کے خیال سے ذبح کیا گیا ہو یا خدا کےسوا کسی اور کا نام ذبح کے وقت لیا گیا ہو۔پھر فرماتا ہے مگر جو مضطر ہو جائے اسے کوئی اورکھانا نہ ملے بشرطیکہ جان کے ایسے موقع پر نہ گیا ہو یا کھاتے وقت ضرور سے زیادہ نہ کھائے تو ایسا شخص اگر ان کھانوں کو کھا لے تو اللہ تعالیٰٰ اس کو ان کے بد اثرات سے بچا لے گا۔اس آیت میں تین چیزوں مُردار اور خون اور سؤر کے گوشت کو طبعی نقصانات کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے اور آخری چیز کو دینی نقصان کی وجہ سے چنانچہ مردار اور خون تو بہت سے زہروں پر مشتمل ہے اور مردار کی نسبت اغلب گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ بیماری یا زہر یا زہریلے جانوروں کے کاٹے سے مرا ہو یا بالکل بوڑھا ہو کر مرا ہو اور یہ سب حالتیں ایسی ہیں کہ ان میں جانور کا گوشت کھانے کی قابلیت سے باہر ہو جاتا ہے اور اگر کسی سخت صدمہ سے مرا ہو تب بھی اس میں زہر پیدا ہو جاتا ہے پس درحقیقت کھانے کے قابل وہی گوشت ہوا ہے جو ذبح کئے ہوئے جانور کا ہو۔خون بھی زہروں پر مشتمل ہوتا ہے اور صحت کے لئے مضر سؤر کا گوشت کئی عیب اپنے اندر رکھتا ہے اول تو سؤر کے گوشت میں بعض بیماری پائی جاتی ہیں۔دوم یہ جانور طبعاً غلاظت پسند ہے سوم اس جانور میں ایک اخلاقی نقص ہے جو اور کسی جانور میں نہیں پایا جاتا پس اس کا استعمال جسمانی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے مضر ہے مگر چونکہ خوراج کی مضرتیں پوشیدہ ہوتی ہیں افسوس ہے کہ اب تک لوگ اس نقص کو محسوس نہیں کر سکے۔مگرہم یقین کرتے ہیں کہ وہ دن دور نہیں ہے جب اس جانور کو خوراک کے جانوروں میں سے بالکل نکال دیا جائے گا اور فطرت انسانی کو بے روک بڑھنے کا موقع دیا جائے گا۔چوتھی چیز جو شرک کے طور پر ذبح کی جائے اور اس کے قربان کرنے کا باعث خدا تعالیٰ کے سوا او رہستیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خواہش ہو۔چونکہ اس میں خدائے وحدہٗ لا شریک کی ہتک کی جاتی ہے کہ اس کی صفات اور دوسری ہستیوں کو دی جاتی ہیں اس لئے اس کو استعمال کرنا انسان کو بے غیرت بناتا ہے بلکہ درحقیقت ایسے جانور کو کھانا دلی ناپاکی اور بے غیرتی کی علامت ہے پس اسلام نے اس کو بھی حرام کیا ہے۔مذکورہ بالا چیزوں کے علاوہ جنہیں ممتاز طور پر بیان کیا گیا ہے اور بعض اشیاء بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں اور ان کی مناعی کی حکمت بھی وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے یعنی جسمانی یا اخلاقی