انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 259

۲۵۹ سے بڑھا ہوا ضرر جسمانی یا اخلاقی یا روحانی ہو چنانچہ اسی وجہ سے اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ ترکاری بھی اور گوشت بھی دونوں چیزوں کا استعمال کرنا چاہئے کیونکہ بعض اخلاق نباتات کے استعمال سے ترقی کرتے ہیں اور بعض حیوانات کے استعمال سے۔جیسے کہ حلم اور نرمی اور ذکاوت اور استقلال نباتات کے استعمال سے پیدا ہوتے ہیں لیکن شجاعت اور وقار اور ہمت اور غیرت حیوانات کے استعمال سے زیادہ ہوتے ہیں۔پس اسلام نے ہر اک قسم کی غذاؤں کے استعمال کا حکم دیا ہے تاکہ سب کے سب جذبات انسان کے اندر نشو و نما پاتے رہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ () قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ(الأَعراف: 32-33) اے مومنو! نیک اعمال کے حصول کے لئے تین باتوں کی ضرورت ہے ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ کی عبادت ظاہر اور باطن کو درست کر ے کرو۔دوسرے یہ کہ ہر قسم کے کھانے اور پینے کی چیزوں کو استعمال کرو اور ایک ہی طرف زور نہ دے دو تاکہ ہر قسم کے طبعی تقاضے تم میں نشو و نما پائیں۔تُو ان سے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ انسان کو ظاہری صفائی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہئے یا یہ خیال کرتے ہیں کہ انسان کو باطنی صفائی کی طرف توجہ نہیں کرنا چاہئے یا یہ خیال کرتے ہیں کہ انسان کو ایک ہی قسم کی غذاؤں کے پیچھے پڑ جانا چاہئے کہہ دے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی زینت اور اس کے عطا کئے ہوئے عمدہ اور پاک کھانوں کو منع کرنے والے تم کون ہو؟ ہاں اس قاعدہ کے ساتھ کہ انسان کو ہر قسم کی غذائیں جو اس کے مختلف طبعی تقاضوں کو ابھارتی ہیں استعمال کرنی چاہئیں یہ بھی حد بندی لگا دی ہے کہ جو غذائیں جذبات کو ایسا ابھارتی ہیں کہ ان کو قابو میں رکھنامشکل ہو جاتا ہے یا جو صحت یا عقل یا اخلاق یا دین پر بد اثر ڈالتی ہیں ان کو استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ اصل غرض کو بالکل باطل کر دیتی ہیں۔ان غذاؤں میں سے سب سے مقدم قرآن کریم نے مفصلہ ذیل چار غذاؤں کو رکھاہے جو چاروں چار اصول پر مبنی ہیں۔فرماتا ہے قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (الأَنعام:146) کہہ دے کہ میں تو اپنی وحی میں کھانے والے پر حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ جو مردہ ہو یا بہایا ہوا خون ہو۔یا سؤر کا گوشت کیونکہ ان میں سے ہر ایک ضرر رساں ہے یا وہ