انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 136

۱۳۶ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰٰ کو ہی حاصل ہے کیونکہ ان کو جو کچھ ملا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ہی ملا ہے۔ایک خوبصورت نظارہ، ایک خوشبو دار پھول، ایک خوش ذائقہ کھانا، ایک نرم اور ملائم فرش، ایک دلکش آواز غرض جس قدر اچھی چیزیں ہیں جن کو محسوس کر کے حواس انسانی خوشی و راحت پاتے ہیں ان سب چیزوں کی خوبی خدا تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے۔پھر فرماتا ہے الرَّحْمَان بندوں کو جس قدر ضروریات پیش آنی تھیں اور جس قسم کے سامانوں کی ان کو احتیاج ہونی تھی وہ سب خدا تعالیٰ نے بطور انعام اور فضل کے پیدا کر چھوڑی ہیں جیسے نور اور روشنی یا آگ اور پانی اور ہوا اور قسم قسم کی غذائیں اور دوائیں اور لکڑی اور لوہا اور پتھر۔غرض انسان کی محنت اور کوشش کے لئے اس نے اس قدر چیزیں دنیا میں پیدا کر چھوڑی ہیں کہ وہ جس طرف بھی رخ کرے اسے اپنے مشغول کرنے اور اپنے علم اور کمال میں ترقی کرنے کا موقع میسر ہے حتیٰ کہ کوئی انسانی حاجت نہیں جس کا سامان خدا تعالیٰ نے انسان کی پیدائش سے پہلے پیدا نہیں کر دیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا نام قرآن کریم اَلرَّحِیْم بتاتا ہے کہ وہ تمام محنتوں اور کوششوں کے نتائج صحیح اور اعلیٰ پیدا کرتا ہے۔جیسی جیسی کوئی محنت کرتا ہے اسی قدر اس کو بدلہ مل جاتا ہے۔انسان کی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی بلکہ ہمیشہ اس کے ثمرات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔پھر یہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ جزاء و سزا کے وقت کا مالک ہے یعنی علاوہ ان نتائج کے جو اس کی طرف سے طبعی قانون کے ماتحت نکلتے رہتے ہیں یا علاوہ ان بدلوں کے جو ساتھ کے ساتھ ملتے رہتے ہیں اس نے ہر ایک کام کی ایک انتہاء مقرر کی ہے جس پر پہنچ کر اس کا آخری فیصلہ ہو جاتا ہے۔نیک نیک بدلہ اور بد بدی کی سزا پا لیتے ہیں مگر یہ بدلے اور جزائیں اللہ تعالیٰٰ کی مالکیت کے ماتحت ہوتے ہیں اگر وہ چاہتا ہے تو معاف بھی کر دیتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی نسبت آتا ہے کہ وہ قَدِیْر ہے اس نے ہر ایک چیز اور ہر ایک چیز کے اثر اور ہر ایک چیز کے نتائج کے اندازے مقرر کئے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے۔اگر یہ اندازہ نہ ہوتا تو دنیا میں اندھیر آ جاتا کیونکہ لوگ بالکل کام چھوڑ بیٹھتے۔کھانا پکانے والا کھانا پکانے کے لئے اس لئے آگ جلاتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ ضرور گرمی پیدا کرے گی اگر یہ قانون نہ ہوتا اور آگ کے جلانے کا کام مقرر نہ ہوتا یا پانی کے لئے بجھانے کا کام۔کبھی آگ گرمی پیدا کرتی کبھی سردی، پانی کبھی آگ بجھاتاکبھی آگ لگاتا تو آج جس طرح لوگ ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں کبھی نہ اٹھاتے بلکہ نتائج کے یقینی ہونے کے سبب سے ہمت ہار کر