انوارالعلوم (جلد 8) — Page 132
۱۳۲ سی صداقتیں جو دنیا سے مفقود ہو چکی تھیں دوبارہ ان کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور بہت سی صداقتیں جو اس زمانہ سے خاص ہیں پہلے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھیں ان کو ظاہر کیا گیا اور بہت سے علوم قرآنیہ جو الفاظ کے نیچے مدفون چلے آتے تھے ان کو نکال کر علمی دنیا کو مالا مال کر دیا گیا ہے۔پس جب میں اپنے مضمون میں یہ کہوں کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے تو اس سے مراد وہی تعلیم ہو گی جو احمدی نقطہ نگاہ کے مطابق ہے خواہ دوسرے لوگ اس کو قبول کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں اور جب میں یہ کہوں کہ احمدیت کی یہ تعلیم ہے تو اس سے مراد بھی وہ تعلیم ہو گی جو اسلام نے پیش کی ہے نہ کوئی جدید تعلیم۔مگر پیشتر اس کے کہ میں ان تعلیمات اور خصوصیات کو بیان کروں جو احمدیت کو دوسرے مذاہب سے ممتاز کر دیتی ہیں میں تمہیداً اس امر کو بیان کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ گو بانیانِ مذہبی کانفرنس کی اس کانفرنس کے قیام سے کچھ بھی غرض ہو میرے نزدیک ایسی کانفرنس کی سب سے بڑی غرض یہی ہونی چاہئے کہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو اس امر کے موازنہ کرنے کا موقع ملے کہ کونسا مذہب ان کو اس مقصد کے حصول میں ممدّ ہو سکتا ہے جس مقصد کے لئے مذہب کی جستجو کی جاتی ہے۔پس گو یہ ضروری نہیں کہ ان مضامین میں جو اس موقع پر پڑھے جاتے ہیں ہر اک حکم کو بیان کیا جائے مگر یہ ضروری ہے کہ ہر مذہب کی اصولی تعلیم کا ایک مختصر مگر مکمل نقشہ پیش کر دیا جائے جس سے لوگ اس امر کا اندازہ کر سکیں کہ اس مذہب میں تمام اہم ضروریات کو پور اکرنے کے سامان موجود ہیں اور صرف چند باتوں کو لے کر ان پر زور نہیں دے دیا گیا۔دوسرا امر اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر اک مذہب کے قائم مقام اپنے مذہب کو پیش کریں نہ کہ اپنے خیال کو۔اگر ایسا نہ کیا جائے گا تو کبھی حق کو نہیں پا سکیں گے خیالات کوئی مادی اور ٹھوس چیز نہیں ہیں جن کو مختلف مذاہب کے پیرو تالوں میں بند کر کے رکھ چھوڑیں۔جس وقت کسی خیال کا اظہار کیا جاتا ہے وہ ملک عام ہو جاتا ہے جو چاہے اس کو اختیار کر لے اور استعمال کرے۔پس اگر ایسا کوئی علاج نہ نکالا جائے جس کے ذریعہ سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ خیالات جن کو کسی مذہب کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے وہ فی الواقع اسی کے ہیں اور لیکچرار نے ان خیالات کو دوسرے لوگوں سے چُرایا نہیں کبھی بھی مذاہب کا فیصلہ کرنے میں آسانی نہ ہو گی اور نہ صحیح موازنہ ہو سکے گا اور نہ کوئی نتیجہ نکلے گا بلکہ ان لوگوں کو نقصان پہنچے گا اور وہ خیال کرنے لگیں گے کہ سب مذاہب ایک سے ہیں حالانکہ صرف ایک مذہب میں وہ سچائی ہو گی