انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 114

۱۱۴ تھے اپنے علم کا سورج چڑھایا اور اپنے مامور اور مرسل حضرت احمد علیہ السلام کو مشرقی زمین سے برپا کیا اور اس کی نورانی کرنوں کے ذریعہ سے وساوس اور شکوک کی تاریکی کو پھاڑ دیا۔پھر اس نے اپنی رحمت کے بادل برسائے اور اپنے فضل کی ہوائیں چلائیں۔اور ہر ایک خشک زمین کو سیراب کیا اور روحانیت اور تقویٰ کی روئیدگی کو نکالا تا دنیا ایک شاداب کھیت کی طرح ہو جائے بعد اس کے کہ وہ ایک خشک جنگل کی طرح تھی اور لوگ زندگی اور خوشی کا سانس لیں بعد اس کے کہ وہ مر چکے تھے اور مرجھا گئے تھے۔ہم اس کے نبی محمد ﷺ پر بھی درود بھیجتے ہیں جس کے ذریعہ سے وہ چشمہ پھوٹا جو کبھی خشک نہ ہو گا اور وہ علم کا دروازہ کھولا گیا جو تلاش کرنے والوں کے لئے کبھی بند نہ ہو گا۔اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق دنیا کو راستی اور ہدایت کی طرف لائے اور حق کو قبول کرنے کی اس کو توفیق دے تا تمام دنیا میں امن اور صلح کا دَور دَورہ ہو اور روز مرہ کے جھگڑے اور فساد دور ہوں اور تا لوگ اس حقیقی راحت کو پالیں جو بغیر خدا تعالیٰ سے ملنے کے کبھی نہیں مل سکتی۔اللھم اٰمین اس کے بعد میں خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس کلام کی تائید میں جو اس نے تیرہ سو سال پہلے قرآن کریم میں نازل فرمایا تھا بانیان ریلیجس کانفرنس کو اس جلسہ کے انعقاد کی توفیق عطا فرمائی وہ کلام یہ ہے:۔وَالصَّافَّاتِ صَفًّا () فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا () فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا () إِنَّ إِلَهَكُمْ لَوَاحِدٌ () رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ () إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ () وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ(الصافات:2-8) یعنی میں اس امر کی شہاد ت کے طور پر کہ خدا کا دین ہی آخر غالب رہے گا ان مجالس کو پیش کرتا ہوں جہاں لوگ قطاروں میں بیٹھیں گے اور اس جماعت کو پیش کرتا ہوں جو انتظام کرے گی اور کسی کو اپنے دائرہ عمل سے باہر نہیں جانے دے گی اور ان لوگوں کو پیش کرتا ہوں جو اس وقت مذاہب کی خوبیوں پر مضمون پڑھیں گے۔ان سب کی کوششوں کا آخر یہی نتیجہ نکلے گا کہ خدا ایک ہے آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب۔وہ مشرقوں کا بھی ویسا ہی رب ہے (جس طرح مغربوں کا) اور یہ کہ ہم نے اس روحانی بلندی کو جو سب سے قریب کی ہے ستاروں سے منور کیا ہے اور ان کا یہ کام بھی مقرر کیا ہے کہ وہ ہر ایک اس شخص کے حملہ سے سچے دین کو بچائیں جو لوگوں کو حق سے دو رکرتا ہے اور خدا کی اطاعت سے باہر نکل گیا ہے