انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 64

۶۴ نہیں مانتے اور اپنے متعلق کہتے ہیں کہ میں آپ کے غلاموں میں سے ایک غلام ہوں تو کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ میں خدا ہوں۔اگر کہو مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا خدا ہوں ۱۴؎ نہ تو میں کہتا ہوں رسول کریم ﷺ کہتے ہیں ایسے بہت سے خدا ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ نوافل پڑھنے سے انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کے کان، آنکھ، ہاتھ ،پاؤں خدا کے ہو جاتے ہیں ۱۵؎ اب جس قدر مؤمن ہیں ان سب کو خدا کہہ دو۔پھر اگر اسی طرح خدائی کا دعوی ٰنکل سکتا ہے جس طرح حضرت مرزا صاحب کے متعلق نکالا جاتا ہے تو اس طرح محمدﷺ کا بھی خدائی کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا کیونکہ قرآن کریم میں آتا ہے۔مارمیت اذرمیت ولکن الله رمى خد اتعالی فرماتا ہے تو نے نہیں مارا تھا جب مارا تھا بلکہ اللہ نے مارا تھا۔ہم کہتے ہیں کنکر تو رسول کریم ﷺنے پھینکے تھے مگر کہا گیا ہے کہ خدا نے پھینکے اس پر کیا یہ اعتراض نہیں پڑتا کہ رسول کریم اپنا پھینکنا خد اکا پھینکنا قرار دیکر خدا بنتے ہیں۔اگر نہیں بلکہ اس کی تاویل کی جائے کی تو کیوں اسی طرح حضرت مرزا صاحب کے الفاظ کی تاویل نہیں کی جاتی؟ ابن اللہ ہونے کادعویٰ پھر کہا جاتا ہے مرزا صاحب نے ابن اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔چنانچہ ان کا الہام ہے اسمع ولدی ہے تو جھوٹ ہے کہ آپ کا یہ الہام ہے یہ کتابت کی غلطی ہے۔اصل الہام جہاں شائع ہوا وہاں صحیح ہے یعنی ولدی کی جگہ داری ۱۶؎ ہے مگر باوجود یہ بتادینے کے مولوی اعتراض کرتے رہتے ہیں کیا اس طرح قرآن کی کتابت کی غلطیاں پیش کر کے آیات پر اعتراض کیا جاسکتا ہے اس طرح جب غیرمذاہب کے لوگ اعتراض کرتے ہیں تو جو جواب مولوی صاحبان ان کو دیتے ہیں وہی اس الہام کے متعلق ہمارا ہے کہ اصل الہام جو شائع شدہ ہے وہ صحیح ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔باتی رہاالہام انت منی بمنزلة ولدی ۱۸؎ اس کے معنی یہ ہیں کہ تُو بیٹے کے مرتبہ پرہے یہ نہیں کہ تو بیٹا ہے۔میں پوچھتا ہوں اعتراض کرنے والوں نے کبھی سنا ہے کہ کسی نے بھائی کو کہا ہو تو میرے لئے بھائی کے مقام پر ہے۔یا بھائی کو کہتے ہیں کہ تُو بھائی کے مقام پر ہے یہ اسی کو کہا جاتا ہے جو اصل میں بھائی نہیں ہوتا اور اس سے تعلق کے اظہار کے لئے کہاجاتاہے اسی طرح حضرت مرزا صاحب کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تُو مجھے ایسا پیارا ہے جیسے بچہ پیارا ہوتا ہے۔۱۹؎ اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے خدا تعالی اپنے بندوں کے ساتھ اس سے بھی زیادہ پیار کرتا ہےجتناماں اپنے بچے سے کرتی ہے چنانچہ بد ر کی لڑائی کے وقت ایک عورت نہایت گھبرائی ہوئی پھر